کالام کے سیاحتی مقام پلوگاہ میں غیر قانونی ڈانس پارٹی پر ہوٹل انتظامیہ گرفتار اور ایس ایچ او معطل

ڈی پی او سوات نے بروقت کارروائی نہ کرنے پر ایس ایچ او کو معطل کر کے پولیس لائنز طلب کر لیا۔

August 24, 2026 · قومی
کالام میں ہوٹلز (علامتی تصویر)

کالام میں ہوٹلز (علامتی تصویر)

سوات کی تحصیل کالام کے خوبصورت سیاحتی مقام پلوگاہ میں رات گئے تیز موسیقی اور غیر قانونی پارٹی کے انعقاد پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہوٹل انتظامیہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ مقامی لوگوں کی جانب سے اس غیر قانونی سرگرمی کی شکایات اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس حرکت میں آئی۔

واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد مقامی شہریوں نے ڈی آئی جی مالاکنڈ اور ڈی پی او سوات سے فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ پرامن سیاحتی ماحول میں اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف مقامی روایات کے منافی ہیں بلکہ سیاحت کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔

عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او سوات مشتاق احمد نے ہوٹل کے مالک اور انتظامیہ کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ یا پولیس سے کسی قسم کی پیشگی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے قوانین کی پاسداری کی گئی تھی۔

اس سلسلے میں غفلت برتنے پر ڈی پی او سوات نے ایس ایچ او تھانہ کالام کو بھی فوری طور پر معطل کر دیا۔ معطل ہونے والے ایس ایچ او کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس لائنز رپورٹ کریں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایس ایچ او کی معطلی کی بنیادی وجہ اپنے اعلیٰ افسران کو صورتحال سے بروقت آگاہ نہ کرنا اور اس غیر قانونی سرگرمی کو روکنے کے لیے بروقت قدم نہ اٹھانا تھی۔

دوسری جانب علاقے کے مکینوں نے پلوگاہ اور اس کے گردونواح میں دریا کے کنارے غیر قانونی اور بے ضابطہ تعمیرات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دریائے سوات کے کناروں پر جاری بھاری اور غیر قانونی تعمیراتی کام نہ صرف قدرتی ماحول کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے بلکہ اس سے وادی سوات کا قدرتی حسن بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔

عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سیاحتی مقامات پر قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور دریائی کناروں پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ وادی سوات کے قدرتی مناظر کو بچانے اور سیاحت کے فروغ کے لیے ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔