ایران پر امریکی پابندیوں کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں کمی
قیمت تقریباً 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت معمولی اضافے کے بعد تقریباً 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
فائل فوٹو
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار ایران سے متعلق امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات اور عالمی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
برینٹ خام تیل کے ستمبر کے سودوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت تقریباً 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت معمولی اضافے کے بعد تقریباً 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اس سے ایک روز قبل دونوں اہم عالمی معیاروں کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔ ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع حاصل کرنے کے باعث بھی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایران پر پابندیوں کا دائرہ مزید بڑھانے کے اعلان نے عالمی توانائی مارکیٹ میں نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران کی آمدنی کے اہم ذرائع کو محدود کرنا اور اس پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار فی الحال پابندیوں سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات کو فوری طور پر تیل کی سپلائی میں بڑے تعطل کے مقابلے میں کم خطرناک سمجھ رہے ہیں، اسی وجہ سے پابندیوں کے اعلان کے بعد قیمتوں میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
تاہم ایران کی جانب سے سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں خطرے کا اضافی عنصر برقرار ہے۔
ادھر عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا اور وہ ناکارہ ہوگیا۔ واقعے میں عملہ محفوظ رہا، جبکہ فوری طور پر تیل کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے باعث کئی ممالک اپنی تجارتی اور اسٹریٹجک تیل ذخائر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کار خطے کی صورتحال اور مستقبل میں خام تیل کی سپلائی پر ممکنہ اثرات کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔