بھارت میں نوجوان لڑکے اور ماں باپ کی موت کا نیا پہلو، میاں بیوی کا جھگڑا نکل آیا

موبائل فون کا جھگڑا نہیں تھا، کنال کے والد اچھا کماتے تھے، وہ ان سے ساتھ رہنے کا وعدہ لینا چاہتا تھا، خالہ کی گفتگو

August 25, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا ایپ(ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا ایپ(ایکس)

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر میں خاندانی تنازع کے دوران ایک نوجوان اور اس کے والدین کی المناک موت کا واقعہ پیش آیا۔واقعہ 21 اگست کو خواڈیا ڈونگر کے علاقے میں پیش آیا، جہاں 18 سے 19 سالہ کنال چندگُڈے، اس کے والد مرلی دھر اور والدہ سنگیتا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ابتدائی طور پر سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کنال مبینہ طور پر آئی فون کی اقساط سے متعلق تنازع کے باعث پہاڑی چٹان پر گیا تھا، جہاں اسے بچانے کی کوشش میں اس کے والد بھی نیچے گر گئے جبکہ والدہ نے بھی بعد میں چھلانگ لگا دی۔

تاہم اہل خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی مختلف وجہ بیان کی ہے۔ کنال کی خالہ پلووی پٹیل کے مطابق اصل مسئلہ آئی فون نہیں بلکہ والدین کے درمیان جاری خاندانی اختلافات تھے۔

خاندان کے مطابق کنال ایک ذہین طالب علم تھا اور آکاش انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لے کر طبی تعلیم کی تیاری کر رہا تھا۔ اس کی خواہش ڈاکٹر بننے کی تھی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ خاندان مالی طور پر بھی مستحکم تھا، اس لیے واقعے کو صرف موبائل فون کی اقساط سے جوڑنا درست نہیں۔

رشتہ داروں کے مطابق کنال اپنے والدین کے درمیان اختلافات سے شدید پریشان تھا اور چاہتا تھا کہ دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ اپنے والدین کو پہاڑی مقام پر لے گیا تاکہ دونوں سے اپنے اختلافات ختم کرکے ساتھ رہنے کا وعدہ لے سکے۔

اہل خانہ کے بیان کے مطابق وہاں کافی دیر تک والدین اور بیٹے کے درمیان گفتگو اور بحث جاری رہی۔ بعد ازاں کنال کے والد نے اسے روکنے کی کوشش کی، جس دوران دونوں چٹان سے نیچے گر گئے۔ والدہ نے دونوں کو گرتے دیکھا اور کچھ ہی دیر بعد خود بھی پہاڑی سے چھلانگ لگا دی۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں بھی خاندانی اختلافات کے پہلو کو دیکھا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق کنال نے اس سے قبل بھی اسی مقام پر اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی، تاہم اس وقت اسے روک لیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد آئی فون کی اقساط سے متعلق دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گیا، تاہم خاندان کا کہنا ہے کہ یہ واقعے کی مکمل حقیقت نہیں۔ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی وجوہات تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔