امریکہ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ذریعے ایران کو پیشکش پہنچا دی، العربیہ ٹی وی
آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے ناکہ بندی اور پابندیوں کے خاتمے کی پیشکش، ایران کو پراکیسز کے ذریعے حملے بھی بند کرنے ہوں گے
فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے محسن رضائی سے ملاقات کر رہے ہیں
امریکہ کی جانب سے اہم سفارتی پیشرفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے کی پیشکش تہران تک پہنچا دی گئی ہے۔ معروف عرب نشریاتی ادارے العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ اہم ترین پیغام فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ایرانی حکام کو پہنچایا گیا۔ اس سفارتی رابطے کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دیرپا استحکام کی راہیں استوار کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے نمائندے محسن رضائی سے انتہائی اہم ملاقات ہوئی جسے دونوں جانب سے واضح اور فیصلہ کن قرار دیا گیا۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل نے دوٹوک انداز میں مطالبہ کیا کہ ایران کو خطے میں اپنے تمام وابستہ گروپوں کے ذریعے حملے فوری طور پر بند کرنا ہوں گے۔
ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تاریخی جوہری معاہدے پر کام کا دوبارہ آغاز کرے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو صاف الفاظ میں باور کرایا کہ ماضی میں اس معاہدے پر عمل درآمد میں جتنی بھی رکاوٹیں حائل ہوئیں اور جو خلل پیدا ہوا، اس کی بنیادی ذمہ داری واشنگتن اور تہران دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے اب فریقین کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
واضح رہے کہ اس پیشکش کو خطے کے موجودہ کشیدہ حالات میں ایک بڑی سفارتی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت بالخصوص تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سمندری راستہ ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو کھولنے کی شرط اور اس کے بدلے پابندیوں میں نرمی کے اس فارمولے سے خطے میں امن کی نئی امیدیں پیدا ہو سکتی ہیں تاہم اس کا دارومدار فریقین بالخصوص ایران کے مثبت اور فوری ردعمل پر ہوگا۔