ڈاکٹر نے نہیں، میں نے بچی کو بچایا‘ خالہ کا بڑا دعویٰ
واقعے کے وقت وہ ہسپتال میں موجود تھیں اور آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی وارڈ کی طرف گئیں۔
فوٹو سوشل میڈیا ایکس
اسلام آباد: پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود کی خالہ نے انتظامیہ کے دعووں پر سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے کی اپنی روداد بیان کردی۔
میڈیا سے گفتگو میں نومولود کی خالہ نے کہا کہ بچی کو کسی ڈاکٹر نے نہیں بلکہ انہوں نے خود آگ سے نکال کر بچایا۔ ان کے مطابق واقعے کے وقت وہ ہسپتال میں موجود تھیں اور آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی وارڈ کی طرف گئیں۔
خاتون نے بتایا کہ وارڈ کے قریب پہنچنے پر ایک لیڈی ڈاکٹر کو باہر کی جانب آتے دیکھا۔ انہوں نے ڈاکٹر سے صورتحال دریافت کی تو مبینہ طور پر انہیں کسی مرد کو بلانے کا کہا گیا۔ بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ وارڈ میں آگ لگ گئی ہے۔
نومولود کی خالہ کے مطابق یہ سن کر وہ فوری طور پر وارڈ کے اندر داخل ہوئیں کیونکہ ان کی بہن کی نومولود بچی وہاں موجود تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اندر داخل ہوکر انہوں نے بچی کو خود اٹھایا، جبکہ اس دوران ان کے بالوں اور کندھے پر بھی آگ لگی۔
خاتون کا کہنا تھا کہ اس وقت وارڈ میں انہیں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نظر نہیں آئی اور جو طبی عملہ وہاں موجود تھا، وہ اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکل چکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی بہن اور نومولود بچی کو لے کر وہ خود وارڈ سے باہر نکلیں۔
سانحہ پمز اسپتال: 15 بچوں میں سے جو بچی بچ گئی، میں اُس کی خالہ ہوں، جیسے ہی پتہ چلا اندر آگ لگی ہے، میں گئی اور بھانجی کو اُٹھا کر نکل آئی، جب میں وہاں اُسے اُٹھانے گئی تو ایک مرد ڈاکٹر تھا جو اپنا سر چُھپا کر وہاں سے بھاگ گیا، ایک خاتون کی گفتگو۔۔!! pic.twitter.com/iS44qfnWg6
— Khurram Iqbal (@khurram143) August 26, 2026
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد پمز انتظامیہ کی جانب سے ان سے مختلف باتیں کی جا رہی ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے غلط بچی اٹھائی، جبکہ کبھی یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ نومولود کو نرس نے باہر نکالا تھا۔
دوسری جانب پمز انتظامیہ کی جانب سے پہلے بتایا گیا تھا کہ نرسری میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے ایک بچی کو طبی عملے نے بحفاظت نکال لیا، جبکہ دیگر 14 نومولود جانبر نہ ہوسکے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کی نرسری میں صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر آگ لگی، جس کی وجہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکا بتایا گیا ہے۔
واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والے مختلف بیانات کے باعث اصل صورتحال جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔