یوٹیوب کے مقابلے پر آنے والا چینی ویڈیو پلیٹ فارم بلی بلی کیا ہے؟
چینی پلیٹ فارم نے بین الاقوامی ایپ ری لانچ کر دی، ایک ہزار ویوز پر 70 سینٹ کی آمدن، ٹک ٹاک کے بعد چین کا بڑا وار
بلی بلی کو یوٹیوب کا نیا عالمی حریف سمجھا جا رہا ہے
چینی ویڈیو پلیٹ فارم بلی بلی نے چین سے باہر یوٹیوب کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی پیش قدمی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت ایک نئی عالمی ایپ ری لانچ کی گئی ہے اور تخلیق کاروں کو راغب کیا جا رہا ہے، یہ ایپ انہیں یوٹیوب سے زیادہ رقم دے رہی ہے۔
بلی بلی چین کا کوئی نیا پلیٹ فارم نہیں لیکن بین الاقوامی لانچ کے بعد اس کا نام وائرل ہوگیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ زیادہ معاوضہ ہے۔
سوشل میڈیا پر خبریں گرم ہیں کہ بلی بلی اپنے تخلیق کاروں کے مراعاتی نظام کے تحت فی 1000 ویوز پر تقریباً 0.70 ڈالر ادا کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ضروری نہیں ہر ملک کے لوگوں کو اسی حساب سے ادائیگی ہو۔ بلی بلی نے ہر 1000 ویوز پر 0.70 ڈالر کی کوئی باضابطہ طے شدہ ادائیگی شائع نہیں کی ہے۔
اس کے تخلیق کاروں کا معاوضہ ویڈیو کی کارکردگی، ناظرین کی دلچسپی، مواد کے معیار اور اشتہارات سمیت دیگر عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔
تاہم یہ کوئی نیا پلیٹ فارم نہیں۔ بلی بلی 2009 میں شنگھائی میں قائم کی گئی تھی لیکن یہ یوٹیوب سے چند برس ہی کم عمر ہے۔ چین میں اس کے 37 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔ امریکی کمپنی سونی کا بھی اس میں شیئر ہے۔
بلی بلی نے اپنی نئی بین الاقوامی اینڈرائیڈ ایپ 19 اگست کو ری لانچ کی جبکہ اس کا آئی او ایس ورژن بھی جلد آنے والا ہے۔ ٹک ٹاک کے بعد بین الاقوامی سوشل میڈیا پر چین کا یہ بڑا وار ہے۔ اس بار بلی بلی کے وائرل ہونے کی وجہ کچھ خاص رعایتیں ہیں۔ ریونیو کے علاوہ ایک بڑی تبدیلی رجسٹریشن میں کی گئی ہے۔ بین الاقوامی تخلیق کاروں کو اب چین سے باہر بلی بلی استعمال کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک کو دور کرتے ہوئے، مواد تخلیق کرنے اور اپ لوڈ کرنے کے لیے محض پاسپورٹ یا دیگر شناختی دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
بلی بلی انگریزی زبان کی ویب سائٹ بھی تیار کر رہا ہے۔ یہ کمپنی بیرون ملک ٹیمیں بھی تشکیل دے رہی ہے، جن میں لاس اینجلس، لندن، میکسیکو سٹی، ساؤ پالو، استنبول اور ٹوکیو میں لوگ سامنے آ رہے ہیں جنہیں باقاعدہ عہدے دیئے گئے ہیں۔
یہ بین الاقوامی پلیٹ فارم کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ماڈریشن نظام پر بھی کام کر رہی ہے۔ بلی بلی پہلے سے ہی چین میں ایک قائم شدہ کری ایٹر انسنٹو پروگرام چلا رہا ہے۔