آپریشن کے باوجود بچہ کیوں نہیں ہوا،ڈاکٹر کی وضاحت
ہسپتال رپورٹس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں۔ اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ وہ تقریباً تین ماہ کی حاملہ ہیں
فوٹو سوشل میڈیا ( فیس بک)
کراچی: ناظم آباد کے ایک نجی ہسپتال میں زچگی کے دوران نومولود بچے کے غائب ہونے کے معاملے پر ہسپتال کی شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن کا بیان سامنے آگیا ہے۔
ڈاکٹر انجم آرا حسن کے مطابق ہسپتال میں موجود طبی ریکارڈ، معائنے اور بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں۔
ان کے مطابق خاتون پہلی مرتبہ فروری میں ہسپتال آئی تھیں اور اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ وہ تقریباً تین ماہ کی حاملہ ہیں۔ ہسپتال میں ان کا الٹرا ساونڈ بھی کیا گیا، تاہم اس میں حمل کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ڈاکٹر انجم نے بتایا کہ خاتون کی ہسپتال میں رجسٹریشن کی گئی تھی اور اس کے بعد وہ مختلف مواقع پر ایمرجنسی میں معائنے کے لیے آتی رہیں۔
شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ کا کہنا تھا کہ خاتون نے ان سے براہِ راست معائنہ نہیں کروایا، جبکہ مریضہ کی فائل میں موجود بعض طبی اندراجات کے جعلی ہونے کا بھی شبہ ہے۔
ان کے مطابق خاتون نے کسی دوسرے ہسپتال کی الٹرا ساونڈ رپورٹ بھی پیش کی تھی، جس میں انہیں حاملہ ظاہر کیا گیا تھا۔ انہی رپورٹس کے ساتھ وہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں آئیں، جہاں ڈیوٹی ڈاکٹر نے ان کا طبی معائنہ کیا۔
ڈاکٹر انجم آرا حسن نے بتایا کہ ہسپتال میں معائنے کے دوران دل کی دھڑکن سمیت دیگر ضروری طبی جانچ کی گئی، جس کے بعد آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم آپریشن کے بعد معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خاتون کی طبی اور قانونی رپورٹس بھی ہسپتال کو موصول ہوچکی ہیں، جبکہ طبی معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج بھی حمل کی موجودگی کی تصدیق نہیں کرتے۔
واقعے کی مزید حقیقت اور نومولود بچے سے متعلق معاملے کے مختلف پہلوؤں کا تعین متعلقہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔