امریکی فوج کے سربراہ کو ایران پرحملے سے اتفاق نہیں۔ سی این این
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے پرجوش رہے ہیں کہ کتنی آسانی سے فتح حاصل ہوسکتی ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے پرجوش رہے ہیں کہ کتنی آسانی سے فتح حاصل ہوسکتی ہے
گذشتہ سال امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا
امریکہ نے 2003 کے بعد سب سے بڑی تعداد میں افواج خطے میں تعینات کردیں-غیرملکی ایئرلائنز کی ایران کیلئے پروازیں منسوخ
بقول امریکی مذاکرات کار صدرڈونلڈٹرمپ تہران کی استقامت پر کیوں حیران ہیں؟
وہ جنوری کے اوائل سے عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں
امریکہ ایٹمی پروگرام،اسرائیل میزائل سسٹم ختم کرنا چاہتا ہے۔جوہری نظام تباہ کر دیا تو مذاکرات کس بات کے؟
یورینیم کی افزودگی ختم کرنے سے انکارپر واشنگٹن تہران کے خلاف بڑی مہم کا سہارا لے گا۔ وال سٹریٹ جرنل
اس اقدام کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے پہلے ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
ٹرمپ انتظامیہ بیک وقت دوطرفہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ مذاکرات اور فوجی کشیدگی دونوں شامل
یہ طاقت محدود حملے کے بجائے ایران کے خلاف ہفتوں فضائی جنگ جاری رکھنے کا آپشن ہے