ایک وفد دربار خلافت میں

0

ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی خدمت عالیہ میں ایک وفد حاضر ہوا۔ وفد میں سے ایک نوجوان کھڑا ہوا تاکہ بات کرے۔ آپؒ نے فرمایا کوئی بڑا آدمی اٹھے، نوجوان نے کہا کہ اے امیر المؤمنین اگر بڑی عمر پر ہی انحصار ہوتا تو مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جو آپ سے زیادہ عمر والے بھی ہیں۔ حضرت عمرؒ نے فرمایا: اچھا، بات کرو۔
اس نوجوان نے کہا: ہم نہ ہی مانگنے والوں کا وفد ہیں اور نہ ہی پریشان یا خوفناک خبر سنانے والوں کا وفد ہیں۔ مرغوب مال وغیرہ آپ کے احسانات کے باعث ہمیں مل گیا۔ آپ کے عدل و انصاف نے ہمیں پریشان اور خطرے سے محفوظ کر دیا ہے۔ الغرض ہم ہر لحاظ سے خوش و خرم ہیں۔ البتہ ہم شکریہ ادا کرنے والوں کا وفد ہیں۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں تاکہ رب تعالیٰ کی عطا کردہ زبان سے بھی آپ کا شکریہ ادا کریں اور چلے جائیں۔ (مکاشفۃ القلوب ص 363)
فضیلت شکر: ارشاد خداوندی ہے۔
ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو (تمہیں) مزید ضرور دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب البتہ سخت ہے۔ (پ 13 س ابراہیم آیت 7)
مطلب یہ ہے کہ ناشکری کی وجہ سے موجودہ نعمتیں سلب کر لی جائیں گی اور ناشکری کی مزید سزا الگ رہی۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدسؐ کی خدمت اقدس میں ایک سائل آیا، آپؐ نے اسے ایک کھجور عنایت فرمائی، اس نے نہ لی۔ پھر دوسرا سائل آیا، اس کو بھی آپؐ نے ایک کھجور عنایت فرمائی۔ وہ بولا: نبی کریمؐ کا تبرک ہے۔ آپؐ نے باندی کو حکم دیا کہ ام سلمہؓ کے پاس چالیس درہم رکھے ہیں، وہ اس شکر گزار سائل کو دلوا دے۔ (تفسیر عثمانی پ 13 ص 339)
ایک حدیث شریف میں حضورؐ فرماتے ہیں:
جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔ (ترمذی شریف)
شکر کے لغوی معنی یہ ہیں کہ جانور میں تھوڑا سا چارہ ملنے پر بھی تر و تازگی پوری موجودہ ہو، دودھ زیادہ دے۔ اسلامی اصطلاح میں شکر سے مراد یہ ہے کہ کسی کی نیکی اور احساس پر دل، زبان اور عمل سے پورا پورا اجر دیا جائے۔ عملی شکر سے مراد یہ ہے کہ محسن نے جو نعمتیں انسان کو دی ہیں، وہ اس کی ہدایت اور رضا کیلئے استعمال کرے۔ رب تعالیٰ نے اگر انسان کو مال دولت سے نوازا ہے تو اپنی دولت کو احکام الٰہی کے مطابق خرچ کرے، نہ کہ اسے فضول خرچ کرے اور نہ اسے پاؤں کے نیچے روندے۔ جیسا کہ بعض مسلمان شادیوں میں غرور و تکبر سے نوٹوں کو پاؤں کے نیچے ڈال کر مسلتے اور ان کے اوپر ناچتے ہیں۔ یہ کفران نعمت اور ناشکری ہے اور اسی طرح خدا کی دی ہوئی روزی کی بے قدری اور توہین و سنگین قانونی جرم اور گناہ کبیرہ ہے۔ رب تعالیٰ مسلمانوں کو ایسی بے ہودگیوں سے بچائے۔
مختصراً یہ ہے کہ شکر کی دو قسمیں ہیں۔ (1) رب تعالیٰ کا شکر (2) بندوں کا شکر۔ رب تعالیٰ کا شکریہ ہے کہ اس کی نافرمانی سے بچے اور اس ذات اقدس سے محبت کرے، محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے بتائے ہوئے احکامات پر مکمل عمل کرے، غرور و تکبر سے بچے۔
دوسری قسم بندوں کا شکر ادا کرے، انسان مدنی الطبع ہے۔ اس کو ایک دوسرے کی مدد و نصرت کی ضرورت ہے۔ وہ اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا، خواہ کوئی بھی ہو۔ اس باہمی تعاون سے ہی انسانی معاشرہ صحیح خطوط پر چل سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس دنیا میں ہر انسان کی گردن کسی نہ کسی دوسرے کے احسان کے جوا کے نیچے ہے۔ چاہے ماں باپ ہوں یا استاد یا پیر و مرشد یا پڑوسی اور رشتہ دار احباب وغیرہ۔ اس لئے بحیثیت انسان ہونے کے اس پر واجب ہے کہ اپنے محسن کے احسانات کا شکر ادا کرے۔ (گلدستہ واقعات و حکایات)

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More