فوجی افسران کو مجسٹریسی اختیارات کا معاملہ معمہ بن گیا

0

کراچی(امت نیوز/مانیٹرنگ ڈیسک)الیکشن کے روز انتخابی مراکز پرتعینات فوجی افسران کو مجسٹریسی اختیارات کا معاملہ معمہ بن گیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے25 جولائی کوعام انتخابات کے موقع پر پولنگ مراکز پرتعینات فوجی افسران کو مجسٹریسی اختیارات دے دئے ہیں۔رائٹرز کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن الطاف خان نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولنگ مراکز پرانچارج فوجی افسران کو مجسٹریسی اختیارات دئے گئے ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ اس کا درست استعمال ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے اس اقدام کی مخالفت جبکہ تحریک انصاف نےخیر مقدم کیا ہے۔ دوسری جانب نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ اعظم خان نے کہا ہے کہ فوج کے جواہلکارپولنگ مراکز پر تعینات ہونگے انہیں مجسٹریسی اختیارات حاصل نہیں ہونگے۔انہوں نے کہاانتخابی سرگرمیوں کے دوران اسفند یار ولی، بلاول زرداری،اکرم درانی، آفتاب شیرپاؤ، عمران خان اور مولانا فضل الرحمان پر حملوں کا خدشہ ہے۔ اعظم خان کے مطابق نظریاتی بنیادوں پر بطور جماعت اے این پی اور پیپلز پارٹی کو خطرہ ہے۔ دریں اثنا نجی ٹی وی کے مطابق مجموعی طور پر 16لاکھ اہلکار الیکشن ڈیوٹی دیں گے۔سیکورٹی کیلئے3 لاکھ 71ہزار فوجی اور4 لاکھ 49ہزار 465پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔اسکے علاوہ85ہزار307 پریذائیڈنگ، 5لاکھ10ہزار356اسسٹنٹ پریذائیڈنگ جبکہ2لاکھ 55ہزار178پولنگ افسر شامل ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More