تاجروں نے متحدہ کو یکسر مسترد کردیا

0

کراچی (رپورٹ: محمد علی اظہر) کراچی کے تاجروں نے 30 برس سے شہر پر قابض متحدہ قومی موومنٹ کو یکسر مسترد کر دیا۔بیشتررہنماؤں نے اپنا سیاسی رجحان بتانے سے گریز کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ معاشی حالات میں بہتری اور پانی کا مسئلہ حل کرنے والوں کو ووٹ دیں گے۔ جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ بہتری کی کوئی امید نہیں اس لئے ووٹ دینے نہیں جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر مفسر عطا ملک نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کسی سیاسی جماعت کے پاس دیانتدار ٹیم ہے، جو معاشی حالات ٹھیک کر سکے۔عوام کو چاہئے کہ وہ ذات یا زبان کے بجائے تمام امیدواروں کو پرکھ کر ووٹ دیں۔میں نے جسے مناسب سمجھا اسے ووٹ دوں گا۔ بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے کہا کہ میرا کوئی سیاسی تعلق نہیں، لیکن کراچی کے حوالے سے پیش گوئی کر سکتا ہوں یہاں 21 قومی نشستیں 6، 5، 4، 3 اور 3 کے تناسب سے نکلیں گی۔ اور یہ پانچ بڑی جماعتوں کے حصے میں آئیں گی۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے سابق صدر زبیر طفیل نے کہا کہ جو ملک کیلئے بہتر ہے اسے ووٹ دیں گے۔ اچھے امیدوار کو ووٹ ڈالنا چاہیئے۔ انہوں نے آئندہ حکومت کے حوالے سے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ اب معلق پارلیمنٹ آئے گی۔ قومی سطح کی دو بڑی جماعتوں ن لیگ اور تحریک انصاف کی آپس میں نہیں بنتی۔ لہذا ن لیگ الیکشن میں کامیاب ہوئی تو پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت بنائے گی، جبکہ تحریک انصاف جیتی تو وہ دیگر اتحاد کی طرف دیکھے گی۔ آل سٹی تاجر اتحاد کے چیئرمین شرجیل گوپلانی نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اس لئے وہ تحریک لبیک پاکستان کو ووٹ دیں گے۔جس نے ناموس رسالت کے حوالے سے اصلی موقف اختیار کیا اور شہید ممتاز قادری کیلئے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ پاکستان سی مینز یونین کے جنرل سیکریٹری آدم پانجری نے کہا کہ ماضی میں انہوں نے ہر مرتبہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیئے۔ لیکن جب سے پارٹی کی باگ دوڑ آصف زرداری کے ہاتھ آئی ہے انہوں نے ووٹ نہیں دیا۔ انہیں اس بار بھی کوئی اچھی امید نظر نہیں آ رہی، جس کی وجہ سے وہ ووٹ نہیں دیں گے۔ کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، گینگ وار اور ہڑتالوں میں ملوث جماعتوں کو ووٹ نہیں دینا چاہیئے۔ پی ایس پی ایک نئی جماعت ہے، جو اہلیان کراچی کیلئے طاقتور جماعت ہو سکتی ہے۔ جبکہ کراچی کے وفاق سے متعلق مسائل میں تحریک ا نصاف اہم کردار ادا کر سکتی ہے، انہوں نے جماعت اسلامی اور ن لیگ کو بھی کراچی کیلئے درست قرار دیا۔ آل پاکستان جیولرز مینوفیکچررز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد نے کہا کہ جو بھی ڈیم بنائے گا ہم ان کو ووٹ دیں گے۔ واضح رہے کہ ن لیگ اور تحریک انصاف کے منشور میں ڈیم کی تعمیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ محمد ارشد نے کہا کہ یہ ملک کی بقا کا مسئلہ ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ جو ان معاملے کو ترجیح دے گا ہم تن من دھن سے اس کے ساتھ ہیں۔ سندھ تاجر اتحاد کے جمیل پراچہ نے بھی ڈیم کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کا مسئلہ حل کرنے کے وعدے پر ہی ووٹ دیں گے۔ پاکستان فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان نے کہا کہ ووٹ نہ دینے والوں پر جرمانہ عائد کیا جانا چاہیئے، کیونکہ اس طرح وہ عوامی نمائندے سامنے آتے ہیں، جو ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشی خرابی کا سبب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں بتا سکتا کہ کسے ووٹ دوں گا، لیکن ن لیگ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے کبھی روپے کو گرنے نہیں دیا۔ اب اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ساری خرابی ن لیگ کے دور میں ہوئی، لیکن روپے کی قدر مستحکم رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ افراط زر میں اضافہ نہ ہو اور مہنگائی بھی نہ بڑھے۔ تاہم ان کے جانے کے بعد نگراں حکومت نے روپے کی بے قدری سے ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شاکر عمر گجر نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن میں موجود ہر فرد کی الگ سیاسی وابستگی ہو سکتی ہے، لیکن ہم بطور ایک ادارہ کسی جماعت کو سپورٹ نہیں کریں گے، کیونکہ ابھی تک کسی جماعت نے ڈیری اور لائیو اسٹاک سیکٹر کی خدمت پر عزم ظاہر نہیں کیا۔ پاکستان موٹرسائیکل اسمبلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد صابر شیخ نے کہا کہ ان کا ووٹ دوسرے حلقے میں ہے۔ اگر ان کا ووٹ اپنے حلقے میں ہوتا تو وہ کتاب پر مہر لگاتے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار درخواستوں کے باوجود میرا گلشن اقبال کا ووٹ ڈی ایچ اے میں منتقل نہیں کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More