ہاکی فیڈریشن کی لاپرواہی پر کھلاڑی مشتعل ہوئے

0

قیصر چوہان
پی ایچ ایف (پاکستان ہاکی فیڈریشن) کے اعلیٰ حکام کی لاپرواہی اور دہرے معیار پر قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی مشتعل ہونے پر مجبور ہوئے۔ ذرائع کے بقول ایشین گیمز کیلئے قومی ٹیم کے کپتان منتخب ہونے والے رضوان سینئر کی قیادت میں کھلاڑیوں نے چھ ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے اور ناقص خوراک پر پی ایچ ایف حکام کیخلاف بغاوت کا اعلان کیا۔ تاہم پی ایچ ایف صدر کی جانب سے اپنے گھر کا سامان فروخت کرکے واجبات ادا کرنے کی یقین دہانی کے بعد کھلاڑی ایشین گیمز کھیلنے پر راضی ہوئے۔ ادھر احتجاج کی دھمکی پر دو ماہ کی تنخواہ سے محروم عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم کے چھوٹے ملازمین کو ایک ماہ کی ادائیگی کردی گئی ہے۔ تاہم لاہور میں موجود ہاکی فیڈریشن کے ملازمین کو اب بھی دو ماہ کی تنخواہ نہیں مل سکی۔ دوسری جانب نگراں حکومت نے نئی گرانٹ جاری کرنے کا معاملہ اگلی حکومت کے سپرد کردیا ہے۔
پی ایچ ایف کے کراچی ہیڈکوارٹر عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چھ ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر کھلاڑی مشتعل ہوئے۔ گزشتہ دنوں ایشین گیمز کیلئے ٹیم کا اعلان ہونے کے فوری بعد قومی کھلاڑیوں نے اعلیٰ حکام کو آڑے ہاتھوں لیا۔ قومی ہاکی ٹیم کے رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ’’امت‘‘ کو بتایا کہ فیڈریشن کھلاڑیوں کے ساتھ بدترین سلوک کر رہا ہے۔ انہیں ٹریننگ کے بعد مسلسل ہوٹل کی غیر معیاری نہاری اور چنے کھلائے جارہے ہیں۔ جب بھی واجبات کا تقاضا کیا جاتا ہے، فیڈریشن گرانٹ نہ ملنے کا بہانہ اپنالیتے ہیں۔ اس ذریعے کے بقول فیڈریشن کے اعلیٰ افسران کو تنخواہوں کی ادائیگی بر وقت کی جارہی ہے۔ فیڈریشن حکام کی جانب سے پہلے یہ کہا گیا کہ ایشین گیمز کیلئے روانگی سے قبل تمام کھلاڑیوں کے واجبات اکائونٹ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ لیکن گزشتہ روز حکام نے یو ٹرن لیا اور کہا کہ صرف ایک ماہ کی ادائیگی فی الحال ممکن ہو سکتی ہے۔ باقی واجبات ایونٹ کے بعد دیئے جائیں گے۔ ذریعے کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ایچ ایف اکائونٹ میں اب بھی ڈھائی کروڑ روپے موجود ہیں، جو ایک افسر نے اپنے ذاتی اکائونٹ میں ٹرانسفر کر رکھے ہیں۔ فیڈریشن کو کھلاڑیوں نے جمعرات تک معاوضوں کی ادائیگی کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ دوسری جانب قومی کھلاڑیوں کی طرح ہاکی فیڈریشن کے چھوٹے ملازمین بھی تخواہیں نہ ملنے کے سبب سخت پریشان ہیں۔ تاہم کھلاڑیوں کی طرح احتجاج کی دھمکی پر پی ایچ ایف انتظامیہ نے کراچی میں موجود فیڈریشن کے تمام چھوٹے ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہیں دینے کا بندوبست کردیا ہے۔ لیکن اب بھی ایک ماہ کی ادائیگی باقی ہے اور ملازمین کی عیدالاضحیٰ کی خوشیاں ماند پڑنے کا خدشہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ تین سال سے کروڑوں روپے کے فنڈز ملنے کے باوجود پاکستان ہاکی فیڈریشن مالی مشکلات کا شکار ہے۔ جبکہ رواں برس کی اٹھارہ کروڑ روپے کی گرانٹ روکے جانے کے سبب پلیئرز کے بعد فیڈریشن کے ملازمین کو بھی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور بھی بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔ لاہور ہیڈ کوارٹر میں دو ڈرائیورز، مالی، اسٹور کیپر، آفس سپرنٹنڈنٹ، اسسٹنٹ آفس سپرنٹنڈنٹ، آئی ٹی ایکسپرٹ اور اکاؤنٹنٹ کام کر رہے ہیں۔ کراچی کے اسٹاف کو بھی شامل کرکے ملازمین کی مجموعی تعداد دو درجن کے قریب ہے۔ ان ملازمین کی اوسط تنخواہیں 20 ہزار سے 40 ہزار تک کے درمیان ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ایچ ایف کے ڈائریکٹرز سمیت ملک بھر کے ملازمین کی مد میں پی ایچ ایف کو ماہانہ آٹھ سے دس لاکھ روپے کی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔ تاہم بیشتر ملازمین کو گزشتہ دو ماہ سے تنخواہیں نہیں مل سکیں۔ پی ایچ ایف میں کام کرنے والے ملازمین میں سے زیادہ ترکا تعلق لوئر مڈل کلاس سے ہے اور وہ فیڈریشن سے ملنے والی تنخواہ سے بڑی مشکل سے اپنے گھر کی ضرورتیں پوری کر پاتے ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ تنخواہیں تاخیر سے ملنے کی وجہ سے گزر بسر بہت مشکل ہوگئی ہے۔ ایک ملازم کا کہنا تھا کہ اگر اسلام میں خود کشی جائز ہوتی تو وہ اپنی جان دے کر معاشی مسائل سے کب کا چھٹکارا پاچکا ہوتا۔ ملازمین نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر ادائیگیاں کی جائیں، تاکہ وہ کسی حد تک مالی مسائل سے باہر نکل سکیں۔ دریں انثا سابق اولمپئنز کے مطابق جو پیسہ پی ایچ ایف کو حکومت کی جانب سے ملا، اسے تو جوائے ٹرپس پر استعمال کرلیا گیا ہے۔ اس کے بعد کھلاڑیوں کو ڈیلی الاؤنس اور ملازمین کو تنخواہیں کہاں سے ملیں گی۔ سابق کھلاڑیوں کے مطابق پی ایچ ایف کو ملنے والی گرانٹ کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ اگر فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا تو ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ ادھر گزشتہ روز پاکستان ہاکی ٹیم نے واجبات کی عدم ادائیگی پر پی ایچ ایف کے خلاف اعلان بغاوت واپس لے لیا ہے۔ کپتان رضوان سینئر سمیت قومی کھلاڑیوں نے چوبیس گھنٹے کے اندر ہی پریس کانفرنس میں اپنا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ ایشین گیمز کیلئے پاکستان ہاکی ٹیم کا اعلان ہوتے ہی ان کھلاڑیوں نے واجبات کیلئے بھرپوراحتجاج کرتے ہوئے ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پریس کانفرنس میں کپتان رضوان سینئر کا کہنا تھا کہ صدر پی ایچ ایف بریگیڈیئر (ر) خالد کھوکھر نے معاملات سلجھانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے گھر کا سامان بیچ کر بھی کھلاڑیوں کے واجبات ادا کریں گے۔ انہوں نے بائیکاٹ نہیں کیا تھا، بلکہ اپنا حق مانگ رہے تھے۔ اسی لئے ٹریننگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ لیکن اگر وعدے کے مطابق پیسے نہ ملے تو کھلاڑیوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ایشین گیمز میں شرکت نہیں کی جائے گی۔ کپتان رضوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر بڑے ایونٹ سے قبل ٹریننگ کیمپ اور اس کے بعد پی ایچ ایف ڈیلی الائونس نہیں دیتی، جس سے کھلاڑی مسائل سے دوچارہیں۔ ایسا نہیں کہ یہ سب کچھ پی ایچ ایف کی جانب سے حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے کیا ہے۔ ہاکی فیڈریشن سے پوچھا جائے کہ اس نے پچاس کروڑ روپے کہاں خرچ کئے۔ غیرملکی دوروں پر غیرضروری لوگوں کو سرکاری خرچ پر لے جانے کا جواب بھی فیڈریشن ہی دے سکتی ہے۔ لیکن حکومت روکے جانے والی بیس کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ جاری کرے۔ واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایشین گیمز کیلئے 18 رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔ ایونٹ میں رضوان سینئر ٹیم کی قیادت کریں گے۔ ایشین گیمز کی اعلان کردہ ٹیم میں رضوان سینئر کپتان، جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں عماد شکیل نائب کپتان، عمران بٹ، امجد علی، عرفان سینئر، مبشر، فیصل قادر، راشد محمود، عماد شکیل بٹ، تصور عباس، عمر بھٹہ، شفقت رسول، توثیق ارشد، اعجاز احمد، ابوبکر محمود، عتیق ارشد، علی شان، دلبر اور جنید منظور شامل ہیں۔ ٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More