ریکو ڈک کیس کی کمزور پیروی پاکستان کی مشکلات بڑھائیں

0

وجیہ احمد صدیقی
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں گے، ورنہ 10 ارب ڈالر جرمانہ لگ گیا تو ادا کرنا صوبے اور وفاق کے لیے مشکل ہوگا۔ ریکوڈک کیس کی کمزور پیروی نے پاکستان کے لیے خطرات کھڑے کر دیئے ہیں۔ پاکستانی اور غیر ملکی وکلا ساڑھے 3 ارب روپے کی فیس لے چکے ہیں، لیکن کامیابی کا امکان پھر بھی نہیں ہے۔ پاکستانی وکیل احمر بلال صوفی کیس کی مد میں 2013ء سے پانچ لاکھ روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں۔ جبکہ مقدمے میں اپنی فیس 75 لاکھ روپے طے کی۔ انہوں نے اس سے قبل عالمی عدالت میں کوئی کیس بھی نہیں لڑا۔ دوسری جانب پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان اس کیس میں حریف آسٹریلوی کمپنی ٹیتھان کے وکیل ہیں۔
واضح رہے کہ جولائی 1993ء میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکہ آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا۔ بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہد ہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا، لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھان سے معاہدہ کر لیا۔ آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے، جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔ بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کر دیا۔ بلوچستان حکومت نے 2010ء میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پر خود کام کرے گی۔ بعد ازاں جنوری 2013ء میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ جس کے بعد آسٹریلین کمپنی نے اپنے حصص ٹی سی سی کو فروخت کر دیئے تھے اور ٹی سی سی نے عالمی ثالثی ٹریبونل میں ریکوڈک منصوبے کے لائسنس میں 40 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے نقصان کا دعویٰ کیا تھا۔
عالمی ثالثی ٹریبونل میں پاکستان سے احمر بلال صوفی کو وکیل کیا گیا، جنہوں نے اپنے ساتھ برطانیہ سے شیری بلئیر اور گراہم ڈننگ کو وکیل رکھا۔ ان کی کیا فیس طے ہوئی، یہ نہیں معلوم۔ لیکن معروف قانون دان طارق اسد ایڈووکیٹ جنہوں نے بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے میں گھپلوں پر سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا، کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت میں مقدمہ لڑنے کے لیے پہلے تو احمر بلال صوفی نے بلوچستان حکومت سے 75لاکھ روپے فیس طلب کی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ معاہدہ بھی کیا کہ جب تک یہ مقدمہ چلتا رہے گا انہیں 5 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ بھی ادا کی جاتی رہے۔ 2013ء سے جب سے آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان پر مقدمہ دائر کیا ہے، وہ یہ فیس وصول کر رہے تھے۔ ’’امت‘‘ نے احمر بلال صوفی سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ انہوں نے اس کیس میں کتنی فیس وصول کی۔ البتہ ان کے بقول ’’وزیر اعلیٰ بلوچستان درست کہتے ہیں۔ اس کیس میں لمبی لمبی فیسیں ہوتی ہیں، کیونکہ بین الاقوامی وکلا کی خدمات لی جاتی ہیں۔ البتہ میں اس کیس سے تقریباً ساڑھے تین سال پہلے الگ ہوگیا تھا۔ احمر بلال صوفی کی اپنی کمپنی میں پیش کیے گئے انہی کے تعارف کے مطابق انہوں نے عالمی سطح پر کبھی بھی کسی تجارتی معاملے کا کوئی مقدمہ نہیں لڑا ہے۔ یہ ان کا پہلا مقدمہ ہے۔
2014ء میں اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان اسی مقدمے کی سماعت کے لیے اپنی قیادت میں وکلا اور افسران کی ٹیم لے کر پیرس پہنچے تھے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ 8 اکتوبر سے 17 اکتوبر تک پیرس میں رہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے اس مقدمے میں گواہان کو طلب کیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ساتھ جانے والوں میں بلوچستان کے سابق سیکریٹریز میر احمد بخش لہڑی، بابر یعقوب فتح محمد، سابق ممبر پلاننگ کمیشن ڈاکٹر ثمر مبارک مند، ڈائریکٹر جنرل منرلز بلوچستان ارشاد کھوکھر اور من اللہ کندرانی کے علاوہ صوبے کے ایک سابق ایڈووکیٹ جنرل کو گواہ کے طور پر لے جایا گیا۔ جبکہ برطانوی وکیل شیری بلیئر، گراہم ڈننگ اور احمر بلال صوفی نے حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کی نمائندگی کی۔ جبکہ آسٹریلوی کمپنی ٹیتھیان کی جانب سے امریکہ کے قانون دان ڈونالڈ ڈون وان، سابق برطانوی اٹارنی جنرل گولڈ اسمتھ اور پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان پیش ہوئے۔ اس موقع پر اس وقت کے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی سیکریٹری قانون، اٹارنی جنرل پاکستان بھی موجود تھے۔ لیکن یہ ساری کوششیں بے کار گئیں، کیونکہ پچھلے سال یہ خبر آئی کہ پاکستان کے فریق مخالف نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نے آسٹریلیا کے ساتھ باہمی سرمایہ کاری کے معاہدے Bilateral Investment Treaty (BIT) کی خلاف ورزی کی ہے۔ حکومت بلوچستان کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ فیصلہ اس کے حق میں نہیں آرہا ہے، اس لیے اس نے 2015ء میں آسٹریلوی کمپنی سے آئوٹ آف کورٹ معاملات طے کرنے کی کوشش کی، لیکن کمپنی کو بھی یہ نظر آرہا تھا کہ بغیر محنت کیے اسے 10ا رب ڈالر کا فائدہ ہونے والا ہے، اس لیے وہ رضامند نہ ہوئی۔ عالمی ثالثی عدالت پہلے ہی پاکستان کے خلاف فیصلہ سنا چکی ہے۔ ورلڈ بینک کی ثالثی عدالت نے ریکوڈک کیس میں فیصلہ دیا کہ پاکستان نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے بعد جرمانے کے حوالے سے سماعت شروع ہوئی ہے۔ اس کے حوالے سے طارق اسد ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تشویش درست ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس مقدمے کو سنجیدگی سے نہیں لڑا گیا۔ اسی سال جنوری2018ء میں قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ بلوچستان حکومت کی کرپشن کی وجہ سے ریکوڈک منصوبے میں پاکستان کو 11.43 ارب ڈالر کا ہرجانہ بھرنا پڑے گا۔ اس سال مئی میں آسٹریلوی کمپنی نے اپنے نقصان کا یہی تخمینہ بتایا تھا۔ یہ سب کچھ کیس کی کمزور پیروی کی وجہ سے ہوا ہے، کیونکہ پاکستان کا ماہر وکیل خود کمپنی کا وکیل بن گیا اور یہ معاملہ ایک نو آموز کے حوالے کر دیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More