عدالتی حکم پر زرداری کے ساتھی جیل منتقل

0

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ کے حکم پر سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی اور منی لانڈرنگ کیس کے ملزمان انور مجید، عبدالغنی مجید اور حسین لوائی کوملیر جیل کراچی پہنچا دیا گیا۔ پیر کے روز اسلام آباد میں سماعت کے دوران عدالت عظمی کی مقرر کردہ جے آئی ٹی نے اپنی پہلی رپورٹ جمع کرادی، جس میں بتایا گیا ہے کہ 33جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔ 334 افراد ٹرانزیکشن کرتے رہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جعلی کھاتوں سے 210 کمپنیوں کے روابط تھے، جن میں سے47 کا تعلق براہ راست اومنی گروپ سے ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بڑے اعتماد کے ساتھ جے آئی ٹی کو ذمہ داری دی ہے، لانچ کے ذریعے رقوم منتقلی کا بھی پتہ لگایا جائے۔ عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے اخراجات اومنی گروپ سے لینے کا حکم دیتے ہوئے تمام ماتحت عدالتوں کو منجمد اکاوٴنٹس سے متعلق کسی قسم کا فیصلہ کرنے سے روک دیا، جبکہ انور مجید، ان کے بیٹے اور حسین لوائی کو دوبارہ جیل بھجوانے کے احکامات جاری کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاوٴنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے پہلی پیشرفت رپورٹ جمع کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وقت کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔ تحقیقات میں 33 مشکوک اکاوٴنٹس کا سراغ لگایا ہے، جن کی اسکروٹنی کی جارہی ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں 334 ملوث افراد سامنے آئے ہیں جو ان اکاوٴنٹس میں ٹرانزیکشن کرتے رہے۔جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جعلی اکاوٴنٹس کے ساتھ 210 کمپنیوں کے روابط رہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ابھی لانچز کا معلوم نہیں ہوا، ذرا لانچ کے ذریعے رقم منتقلی کا بھی پتہ کریں، احسان صادق نے کہا کہ ابھی لانچ تک نہیں پہنچے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بڑے اعتماد کے ساتھ جے آئی ٹی کو ذمہ داری دی ہے، اکاوٴنٹس کا مقصد یہی ہے چوری اور حرام کے پیسے کو جائز بنایا جائے۔ ایک اہم کردار عارف خان بھی ہے جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ وہ بیرون ملک ہے، کس ملک میں ہے ابھی ظاہر نہیں کر سکتا۔ احسان صادق نے کہا کہ جو ملزمان باہر ہیں انہیں واپس لانے کے اقدامات کر رہے ہیں، جس کے لیے ملزمان کے ریڈ وارنٹ کیلئے اقدامات کررہے ہیں، جبکہ تحقیقات کے لیے نیب، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک سے ریکارڈ لے رہے ہیں۔سربراہ جے آئی ٹی نے مزید بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس میں سرکاری ٹھیکیداروں نے بھی رقم جمع کرائی ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا رقم کراس چیک کے ذریعے اکاؤنٹس میں جمع ہوئی؟ احسان صادق نے بتایا کہ جعلی اکاوٴنٹس کے معاملے کا جائزہ لینا پڑے گا۔ کمپنیوں میں 47 کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا اومنی گروپ کی کتنی شوگر ملز ہیں، سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا 16 شوگر ملز ہیں، چیف جسٹس نے پوچھا کیا اومنی گروپ کسی کا بے نامی دار تو نہیں جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ جعلی بینک اکاوٴنٹس میں رقم جمع کروانے والے ٹھیکیدار بھی تھے، سرکاری ٹھیکیداروں کے نام بھی رپورٹ کا حصہ بنا دیئے، تاہم تمام ٹرانزیکشنز کا جائزہ لینا مشکل کام ہے۔ چیف جسٹس نے کہا جے آئی ٹی کا خرچہ اومنی گروپ پر ڈالیں گے۔ پیسہ کوئی کھائے اور خرچہ سرکار کیوں کرے؟ احسان صادق نے کہا کہ کراچی میں عمارت نہیں تھی مگر ہم نے بندوبست کیا۔انور مجید کے وکیل نے کہا کہ میرے گرفتار مؤکلان کس طرح سے تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے مؤکلان کس قسم کی حراست میں ہیں؟ آپ کے مؤکلان اسپتال میں ہیں، جے آئی ٹی اپنی تحقیقات جاری رکھے، عدالت سے جے آئی ٹی کو جو معاونت چاہیے اس کے لیے درخواست دیں۔ اس موقع پر اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید و عبدالغنی مجید کے وکیل نے جے آئی ٹی اخراجات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تمام اکاوٴنٹس منجمد ہیں، ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی پیسہ نہیں۔چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کوئی گھر بیچ کر اخراجات کیلئے جے آئی ٹی کو پیسے دیں، جس پر وکیل نے کہا کہ اثاثے اور بینک اکاوٴنٹس منجمد ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ اومنی گروپ کے اکاوٴنٹس کھولنے کی درخواست پر فیصلہ نہ دے، آرٹیکل 184 کے تحت اسپیشل کورٹ کو حکم جاری کرنے سے روکتے ہیں۔ جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق سپریم کورٹ کو آگاہ کئے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔چیف جسٹس نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی سے استفسار کیا کہ انور مجید کو اسپتال میں لٹایا ہوا ہے، گھماتے بھی ہیں؟ ڈاکٹر سیمی جمالی نے جواب دیا کہ میرا کام صرف اسپتال انتظامیہ کا ہے، آرمی میڈیکل بورڈ نے 9اور 10محرم کو انور مجید اور عبدالغنی مجید کا معائنہ کیا تھا۔عدالت نے رجسٹرار آفس کو سرجن جنرل آفس سے رابطے کی ہدایت جبکہ وزارت دفاع کو میڈیکل بورڈ سے متعلق رپورٹ دینے کی ہدایت کی جس کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت 10روز کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے کی درخواست پر تشکیل دیئے گئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جمع کرائی گئی، جس کے مطابق انور مجید کی 21ستمبر کو انجیوگرافی ہوئی، جس میں ان کی دل کی شریان نارمل آئیں۔ انور مجید شامل تفتیش ہونے کیلئے مکمل صحت یاب ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انور مجید، عبدالغنی مجید اور حسین لوائی تینوں کی رپورٹس آچکی ہیں۔ میڈیکل بورڈ نے انور مجید اورعبدالغنی مجید دونوں کو جیل منتقل کرنے کی سفارش کی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انور مجید تاحیات بیمار نہیں ہیں، اللہ خیر کرے ایسی کوئی حالت نہیں کہ یہ بستر سے چپک گئے ہیں، انور مجید کی اوپن ہارٹ سرجری کروانی ہے تو کروائیں، ہمیں اعتراض نہیں۔ وکیل بتا دیں سرجری کب کروانی ہیں، بتائیں انہوں نے اسپتال میں رہنا ہے یا جیل میں؟اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو انور مجید اوپن ہارٹ سرجری کروا ہی نہیں رہے، ابھی تو انور مجید اپنی سرجری کے لیے ڈاکٹروں کی ہدایات کا انتظار کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ انور مجید کا دل کا کوئی معاملہ تو ہے ہی نہیں، انکو جیل منتقل کردیں، ڈیڑھ ماہ سے موجیں لگا رکھی ہیں، کیا یہ سرکاری مہمان ہیں؟اس دوران وکیل اومنی گروپ نے بتایا کہ ساوٴتھ سٹی اسپتال سے ان کا آپریشن کروانا ہے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ساوٴتھ سٹی اسپتال کہیں ڈاکٹر عاصم کا تو نہیں؟ اس پر عدالت میں موجود جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ نہیں یہ نجی اسپتال ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ کے مطابق انور مجید صحت مند ہیں، جس پر ان کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت رپورٹ پر جائزہ لینے کا وقت دے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو میرا ایک پیغام دے دیں، اس کیس میں کسی قسم کا کوئی دباوٴ برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر انور مجید اور عبدالغنی مجید کو سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بٹھایا گیا تو اچھا نہیں ہو گا، وزیر اعلیٰ اب یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ان کے لیے سپرنٹنڈنٹ کا کمرہ حاضر ہے، اگر ہمیں پتا چلا تو ہم کارروائی کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ مجبور ہو کر ہمیں پنجاب سے تحقیقات کروانی پڑیں اور یہ معاملہ سندھ سے لے کر پنجاب کے حوالے کردیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ کسی شخص کو اتنا عرصہ کارڈیولوجی سینٹر میں رکھا گیا ہو، جتنا انور مجید کو رکھا گیا ہے۔اس پر وکیل شاہد حامد نے کہا کہ عبدالغنی مجید کو بواسیر کی سرجری کروانی ہے، ان کے ہیموگلوبن بھی کم ہوگیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سرجری کروانے پر ہمارا اور آپ کا اختلاف نہیں ہے، سرجری بے شک کروائیں لیکن پہلے دونوں کو جیل بھیجیں۔ویسے بواسیر تو کریم سے بھی ٹھیک ہوجاتی ہے۔ چیف جسٹس نے ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بشیر میمن صاحب جب سرجری کا وقت ہو تو ان کو اسپتال منتقل کردیں کیونکہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق انور مجید اور عبدالغنی مجید دونوں اسپتال میں نہیں رہ سکتے جبکہ حسین لوائی تو ویسے ہی فٹ ہیں، انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔بعد ازاں عدالت نے انور مجید، عبدالغنی مجید اور حسین لوائی کو واپس جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔خیال رہے کہ 17 ستمبر 2018کو سپریم کورٹ نے سرجن جنرل آف پاکستان کو جعلی اکاوٴنٹس کیس میں گرفتار ملزمان عبدالغنی مجید اور انور مجید کے طبی معائنہ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ جعلی اکاوٴنٹس کیس میں ملزمان کی جانب سے صحت خرابی کے دعووٴں پر ایف آئی اے نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ایف آئی اے نے استدعا کی تھی کہ انور مجید اور عبدالغنی مجید کی صحت کی تشخیص کے لیے اعلیٰ ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جو معائنے کے بعد ان کے دعووٴں کی حقیقت بتاسکیں۔یاد رہے کہ 35ارب روپے کے جعلی اکاوٴنٹس کیس میں 15 اگست کو ایف آئی اے نے اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کرلیا تھا لیکن ملزمان کی جانب سے صحت کی خرابی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More