عمران خان کے خلاف مقدمہ واپس لینے کے لئے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے

0

امت رپورٹ
سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے صاحبزادے ارسلان افتخار نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ’’امت‘‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے بہنوئی مرتضیٰ امجد کا تعلق نہ تو ایڈن ہائوسنگ اور نہ ہی بحریہ ٹائون ہائوسنگ اسکینڈل کے ساتھ ہے۔ اپنے بہنوئی کی گرفتاری کے حوالے سے ارسلان افتخار نے کہا کہ انٹر پول نے انہیں حراست میں لیا ہے۔ ایف آئی اے نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔ یہ سب حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیاں ہیں۔ کیونکہ میرے والد سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے عمران خان کی نااہلی کا مقدمہ واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ارسلان افتخار کا دعویٰ ہے کہ ایڈن ہائوسنگ اسکینڈل کے اصل ملزمان کو سزا دینے کے بجائے پولیس کے روایتی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں کہ ملزم کے تمام گھر والوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے نام ایف آئی آر میں شامل کر دیئے جائیں۔ اس کیس میں بھی یہی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس لیے پریشان ہیں کہ سیتا وائٹ کیس کی مصدقہ نقول اب سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے پاس آ چکی ہیں اور وہ یہ مقدمہ کسی صورت واپس لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا مقدمہ بھی تیار کھڑا ہے۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کراتے وقت اپنی موجودہ اہلیہ کی جائیداد اور اثاثوں کو ان میں ظاہر نہیں کیا۔ ان کو اسی طرح نااہل قرار دیا جا سکتا ہے جس طرح مسلم لیگ ’ن‘ کے سابق رکن اسمبلی جسٹس (ر) افتخار چیمہ کو نا ہل قرار دیا گیا تھا۔ جسٹس (ر) افتخار چیمہ کو 26 جنوری 2016ء کو سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اپنی اہلیہ کے اثاثے ظاہر نہ کرنے پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نااہل قرار دے دیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سنایا گیا تھا۔ ارسلان افتخار کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے اس موقف کی بنا پر ہی ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انٹر پول کو ایڈن ہائوسنگ کے حوالے سے شکایت کی گئی اور میرے بہنوئی سے جو کینیڈا کے شہری ہیں، انہیں برطانیہ سے دبئی آنے پر حکومت پاکستان کی شکایت پر حراست میں لیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کا تین سالہ بیٹا اور دو ماہ کی بیٹی بھی تھی۔ ان دونوں کو ان کی والدہ کے ساتھ جانے دیا گیا، لیکن میرے بہنوئی اب تک زیر حراست ہیں، اور انہیں ابھی تک حکومت پاکستان کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی باقاعدہ گرفتاری بھی انٹر پول نے نہیں ظاہر کی ہے۔ ویسے بھی انہیں حکومت پاکستان کے حوالے کرنا مشکل ہے، کیونکہ وہ کینیڈا کے شہری ہیں‘‘۔ ارسلان افتخار نے کہا کہ ان کا نام بھی محض سیاسی انتقام اور ان کے والد پر مقدمے کو واپس لینے کے لیے دبائو بڑھانے کی خاطر شامل کیا گیا ہے۔ ایک سوال پر ارسلان افتخار نے بتایا کہ ایڈن گروپ کے ساتھ ان کے بہنوئی مرتضی امجد کا تعلق 2009ء میں ہی ختم ہوچکا تھا۔ جب مرتضیٰ امجدکو ان کے والد نے ایڈن گروپ کا ڈائریکٹر بنایا تو اس زمانے میں وہ کینیڈا میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ 2009ء میں جب وہ تعلیم سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس بزنس سے علیحدگی اختیار کرلی، کیونکہ وہ پہلے بھی اس بزنس میں فعال نہیں تھے۔ گزشتہ چار پانچ سال سے وہ برطانیہ میں اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کی کنسلٹنسی کی فرم ہے، اسی سلسلے میں ان کا دبئی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ان کا اپنے والد کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیںہے۔ ارسلان افتخار نے کہا کہ ایڈن گروپ پر اگر کوئی بد عنوانی کا الزام ہے تو اسے ثابت ہونے پر مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ لیکن یہ نہ ہو کہ محض ملزموں کا رشتہ دار ہونے کی بنا پر انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ایڈن ہائوسنگ سوسائٹی کے مقدمے میں بڑا بریک تھرو ہوا ہے اور سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے داماد مرتضیٰ امجد کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دبئی سے گرفتار کرلیا ہے، جن کے وارنٹ قومی احتساب بیورو (نیب) نے جاری کیے تھے۔ کیس کا پس منظر بتاتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ ایڈن ہائوسنگ سوسائٹی میں فراڈ کے نتیجے میں 200 سے 300 لوگ متاثر ہوئے تھے، جن کی ساری زندگی کی جمع پونجی ڈوب گئی تھی۔ وزیر اطلاعات نے یہ الزام بھی لگایا تھاکہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے حیران کن فیصلہ کیا اور ایڈن ہائوسنگ سوسائٹی سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں اپنے پاس لگوا کر اپنے سمدھی کو ریلیف فراہم کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کیس میں افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار، ان کی صاحبزادی اور سمدھی بھی نامزد ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات سے قبل نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو خط لکھا گیا تھا کہ وہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف تحقیقات شروع کریں، کیونکہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اور ان کے خاندان نے لاہور میں نجی ہائوسنگ اسکیم سے ناجائز فائدے اٹھائے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے یہ خط اس وقت لکھا گیا تھا جب سابق چیف جسٹس (ر) افتخار چوہدری نے اپنی جماعت پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی (PJDP) کی جانب سے کہا تھا کہ عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی ٹیریان وائٹ کو ظاہر نہیں کیا۔ اس وقت بھی نجی ہائوسنگ اسکیم سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی تحقیقات مطالبہ بطور ترجمان تحریک انصاف، فواد چوہدری کی جانب سے آیا تھا۔ انہوں نے ہی نیب کو یہ خط لکھا تھا۔
تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے صاحبزادے ارسلان افتخار کو ایڈن کیس میں گرفتار کرلیا جائے۔ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے لیے یہ نہایت سخت آزمائش ہوگی کہ اپنے سابق چیف جسٹس کے صاحبزادے کی گرفتاری کا حکم دیں۔ ایڈن ہاؤسنگ کے مالک ڈاکٹر امجد تقریباً بیس سال سے پراپرٹی کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ایڈن ہاؤسنگ اسکیم کے مالک ڈاکٹر امجد اور ان کی اہلیہ ہیں۔ اس اسکینڈل میں 12 ہزار خاندانوں کا سرمایہ ڈوب گیا ہے۔ ایڈن گروپ کی چھتری کے نیچے ایڈن ہومز، ایڈن میڈوز، ایڈن آباد اور ایڈن لینڈز اسکیمیں تھیں۔ نیب کے مطابق اس لوٹ مار کے ذمہ دار ڈاکٹر امجد، مرتضیٰ امجد اور مصطفیٰ امجد ہیں، جو کمپنی کے ڈائریکٹرز تھے۔ ان کی دھوکے بازی سے سب سے زیادہ پنشنرز کونقصان پہنچا۔ نیب کی تحقیقات کے مطابق ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کے پاس لاہور میں اعلان کردہ اسکیموں کے لئے جگہ تک نہیں تھی۔ پراپرٹی مافیا نے عوام سے پیسے بٹورنے کے لئے بار بار نت نئے ناموں سے اشتہار دئیے۔ پلاٹوں کے نام پر عام لوگوں سے 22 ارب روپے لوٹ کر ملزم پاکستان سے فرار ہو گئے۔ سوسائٹی کے مالک ڈاکٹر امجد کینیڈا اور ان کا بیٹا مرتضیٰ دبئی چلا گیا۔ ایڈن ہائوسنگ اسکینڈل میں نیب کو دو ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد چیئرمین نیب کے حکم پر باضابطہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایڈن انتظامیہ کی اربوں روپے کی جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا گیا۔ ڈاکٹر امجد نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر بیس سال پہلے کام شروع کیا۔ اس گروپ نے جیل روڈ لاہور پر اپارٹمنٹس بنائے۔ ٹھوکر نیاز بیگ پر ہاؤسنگ سوسائٹی بنی اور پھرکام چل نکلا تو شہریوں کو سہانے خواب دکھا کر لوٹ مار شروع کر دی۔ اس گروپ کے بارہ ایسے پراجیکٹ ہیں، جن کے دس ہزار سے زائد متاثرین ہیں۔ متاثرین سے ہر ماہ قسط تو وصول کی جاتی رہی، مگر جب پلاٹ لینے گئے تو معلوم ہوا کہ زمین کا وجود ہی نہیں ہے۔ فراڈ کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں تو ڈاکٹرامجد اہلخانہ سمیت فرار ہو چکے تھے۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More