ٹرمپ کی بات کا برا نہیں مانا-سعودی ولی عہد

0

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک/ ایجنسیاں) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات کا برا نہیں مانا کہ امریکہ کی فوج کے بغیر شاہ سلمان 2 ہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔ شہزادہ محمد کے مطابق گھر میں بھی غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ دوست کی 99باتیں اچھی ہیں، بیان سے تعلقات خراب نہیں ہونگے۔ امریکی صدر کے ساتھ کام کرنا پسند ہے۔ فرمائش پر تیل کی پیداوار بڑھا دی۔ امریکیوں کو نوکریاں بھی دینگے۔ اسلحے کی پوری قیمت ادا کی۔ اپنے دفاع کے بدلے میں کسی کو کچھ نہیں دیا۔ اوباما 8سال ہمارے ایجنڈے کیخلاف چل کر بھی ناکام رہا۔ انہوں نے ملک میں جاسوسی کے الزام پر 1500گرفتاریوں کی تصدیق کی، جبکہ سفارتی تنازع پر کینیڈا سے پھر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان نے امریکی ٹی وی چینل ‘‘بلوم برگ’’ کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بارے میں‌ کہا ہے کہ یہ امریکہ اور سعودی تعلقات میں 99 اچھی چیزوں میں ایک بری چیز ہے۔ غلط فہمیاں ہر جگہ پیدا ہوتی ہیں۔ ایک گھر میں بھی خانگی امور پر تمام افراد کا 100 فیصد اتفاق نہیں ہوتا۔ دوستوں کے درمیان بھی اختلاف رائے ہوسکتا ہے۔ ماضی کی نسبت سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات بہتر اور خوش گوار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب امریکہ سے پہلے بھی قائم تھا۔ اس کا قیام امریکہ سے 30سال پہلے 1744 میں عمل میں آیا۔ سابق امریکی صدر اوباما نے اپنے اقتدار کے 8 برسوں میں ناصرف سعودی عرب، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے خلاف کام کیا۔اس وقت امریکہ ہمارے ایجنڈے کے خلاف تھا، مگر پھر بھی ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ بالآخر ہم کامیاب ٹھہرے اور اوباما کی قیادت میں امریکہ مصر سمیت مختلف ممالک میں ناکام ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ اسلحے کی خریداری کیلئے امریکہ کو ادائیگی کی ہے۔ جب سے ٹرمپ اقتدار میں آئے ہیں، سعودی عرب نے اگلے 10برسوں تک امریکہ سے اپنی ضرورت کا 60فیصد اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ ہم اب تک 110ارب ڈالر کا اسلحہ خرید چکے ہیں اور دوسرے دو طرفہ معاہدوں اور سرمایہ کاری کی کل مالیت 400ارب ڈالر بنتی ہے۔ ان معاہدوں میں یہ بھی شامل ہے کہ کچھ اسلحہ سعودی عرب میں تیار کیا جائے گا، جس سے امریکہ اور سعودی عرب میں ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس سے ہماری سیکورٹی کا تحفظ بھی ہوگا۔ امریکی کمپنی ٹیسلا کی 5فیصد ملکیت سعودی عرب کی ہے۔ سعودی عرب میں غیرملکی کمپنیوں کو اسٹورز کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں اور میں ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کو پسند کرتا ہوں، مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندانہ نظریئے، داعش اور دہشتگردی کے خلاف ہم نے مل کر بہت کچھ حاصل کیا ہے، ہم امریکہ اور 50 سے زائد دیگر ممالک کے ساتھ کام کررہے ہیں، انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کا پیچھا کررہے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے منفی اقدامات کے خلاف جارہے ہیں۔ ٹرمپ کے بیان سے امریکہ اورسعودی عرب کے تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔غلط فہمیوں کو دور کر کے مضبوط تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں۔اتحادی اپنے ملکی اور سیاسی مفاد کے تحت ہر قسم کی بات کرتے ہیں اور ایسا ممکن نہیں کہ ہر اتحادی ملک سو فیصد آپ کے حق میں ہو۔سعودی ولی عہد نے کہا کہ ہم سعودی قوم کے دفاع اور اس کی حفاظت کے لیے کسی سے مفت میں کچھ نہیں لیتے اور اپنے دفاع کے بدلے میں کسی کو کچھ دیں گے بھی نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا امریکہ نے سعودی عرب اور ‘اوپیک’ کے دوسرے رکن ممالک سے درخواست کی تھی کہ وہ تیل کی رسد میں کمی نہ آنے دیں۔ اس پر سعودی عرب کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایران کے عالمی منڈی سے باہر ہونے کے بعد تیل کی پیداوار میں ہونے والی کمی کو پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یومیہ 15 لاکھ بیرل تیل کا اضافہ کیاہے۔جرمنی اور کینیڈا کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں اتار و چڑھاؤ کے حوالے سے سوال کے جواب میں شہزادہ محمد نے واضح کیا کہ کینیڈا نے سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں‌ مداخلت اور ہم پر اپنا حکم چلانے کی کوشش کی۔ کینیڈا کے ساتھ سفارتی تنازع کا سادہ حل صرف معذرت اور آئندہ کے لیے مداخلت سے باز رہنے کی یقین دہانی ہے۔ جبکہ عنقریب سعودی عرب کا سفیر دوبارہ برلن میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔سعودی ولی عہد نے ملک میں 1500 افراد کو گرفتار کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کرنے والے ایجنٹ قرار دیا جبکہ کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ 35ارب ڈالر وصول کئے جاچکے ہیں اور آئندہ دوسال میں یہ کیس بند ہوجائیگا۔ واضح رہے کہ رٹز ہوٹل گرفتاریوں کے حوالے سے سعودی حکومت نے پہلے 100 ارب ڈالر سے زائد نکلوانے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ 2019 تک سعودی عرب کا بجٹ پہلی مرتبہ ایک ٹریلین ریال سے تجاوز کرجائیگا، تیل سے ہٹ کر آمدن میں 300فیصداضافہ ہواہے ،بے روزگاری کی شرح 2030 تک کم ہو کر 7فیصد تک پہنچ جائے گی اور 2030 تک کوئی نیاٹیکس نہیں لگایا جائیگا، ولی عہد نے مزید کہا کہ تیل کمپنی آرامکوکی ابتدائی پبلک بولی 2021 کے اوائل تک شروع ہوگی۔سرمایہ کار اسی روز قیمت کا فیصلہ کریں گے، میرے خیال سے یہ دو ٹریلین ڈالرسے زائد ہوگی۔ سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ انہیں انٹرپول کے ذریعے سعودی عرب واپس نہیں لایا گیا تھا، ہمیں تشویش لاحق ہے کہ خشوگی کے ساتھ کیا واقع پیش آیا ہے، اگر ترک حکام انقرہ میں سعودی قونصلیٹ کی تلاشی لینا چاہتے ہیں تو ہم برا محسوس نہیں کریں گے۔ یمن جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا ہم نہیں چاہتے کہ ہماری سرحد پر جنگ چھڑی رہے مگر ہم جزیرۃ العرب میں ایک نیا حزب اللہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم آبنائے ہرمز پر حزب اللہ اور ایران کا کنٹرول گوارا نہیں کریں‌گے۔ یہ گزرگاہ 15 فیصد عالمی تجارتی جہازوں کی گزرگاہ ہے۔ ہم یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کی جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More