پی آئی اے ریزرویشن سسٹم میں پھر مافیا پنجے گاڑنے لگا

0

کراچی(رپورٹ ،سید نبیل اختر)پی آئی اے کے ریزرویشن سسٹم میں پھر مافیا پنجے گاڑنے لگا۔ مسافروں کے کنفرم ٹکٹس ادائیگیوں کے باوجود منسوخ ہونے لگے،سی آر سی اسلام آباد منتقلی پر کروڑوں کے اخراجات کر کے نظام کویونین بازی، کرپٹ افسران اوربااثر ایجنٹوں سے محفوظ بنانے کے دعوے کئے گئے تھے ،ایک سال بعد ہی کرپٹ مافیا نے ٹکٹنگ نظام کو دوبارہ کنٹرول کرنا شروع کردیا ،لاکھوں روپے خرچ کر کے کنفرم ٹکٹ کے باوجود مسافر پی آئی اے عملے کی منتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں بعض جگہ جھگڑے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ سے مختلف اسٹیشنز سے کنفرم سیٹیں کینسل ہونے سے متعلق شکایات ملنا شروع ہوگئیں ،ذرائع نے بتایا کہ ایک فلائٹ کی ایک یا دو کنفرم نشست منسوخ ہونے پر بکنگ دفتر یا ایجنٹ اس پرواز میں دوبارہ ٹکٹ بنا کر دیتا رہا اور محض غلطی سے منسوخ کو جواز بنایا گیا۔اس سلسلے میں اعلیٰ حکام کو بھی کوئی شکایات نہیں کی گئی ،تاہم سی آر سی یا مارکیٹنگ ٹیم کی جانب سے کنفرم ٹکٹ کی منسوخی کے متعلق بھانڈا ہفتے کے روز پھوٹا، جس میں ایک پاکستانی مسافر اپنے خاندان کے افراد کے 13ٹکٹس کی اچانک منسوخی پر کراچی بکنگ آفس پہنچا، مذکورہ شخص نے18نومبر کو اپنے خاندان کے13افراد کی بکنگ کراچی سے ملتان جانے والی پرواز پی کے 332میں کرائی تھی۔عثمان نے بکنگ دفتر کے عملے سے شکایت کی تو وہاں موجود ڈیوٹی افسر نے انہیں معاملہ حل کرانے کی یقین دہانی کروائی ۔کیونکہ عثمان جب بکنگ آفس پہنچے تو شدید غصے میں تھے اور کنفرم ٹکٹ کی منسوخی کی اصل وجوہات معلوم ہونے اور ٹکٹوں کی بحال ہونے تک وہیں بیٹھنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ پی آئی اے عملے کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ عثمان نے 8افراد کے ٹکٹ ایک ہی پی این آر نمبر R8MGRAپر کروائے تھے ،جبکہ 5 ٹکٹ دوسرے پی این آر نمبرز کے ذریعے کئے گئے تھے۔ عثمان نے کراچی ملتان کے لیے اپنے علاوہ مظہر علی ،عثمان مشتاق ،ثمر مظہر ،ایشال مظہر ،احمد مظہر ،ابیہہ مظہر ،حفیظ اختر، فاطمہ مظہر ،شمائلہ عثمان ،محمد عثمان ،مومن عثمان اور انایہ عثمان کی بکنگ کرواکر پی آئی اے کو ادائیگیاں بھی کردی تھی تاہم کراچی سے تعلق رکھنے والے بکنگ افسر عرفان بلوچ نے 16نومبر 2018کو 10بجکر 55منٹ پر مذکورہ ٹکٹس منسوخ کیں اورتمام سیٹیں دوسرے ایجنٹ کو الاٹ کردیں ۔مذکورہ معاملہ فوری طور پر مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کو بتایا گیا اور اس کے حل کے لیئے کوشش کی تو پتا چلا کہ ملتان جانے والی مذکورہ پرواز کی تمام نشستیں پر ہوچکی ہیں ۔ایک ڈیڑھ گھنٹے اسی کشمکش میں گزرے کہ 13 مسافروں کو کس طرح اسی پرواز میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔اسی اثنا میں عثمان نے ملتان میں جس ٹریول ایجنسی سے ٹکٹ بک کروائے تھے اس کے کراچی میں موجود نمائندے کو لیپ ٹاپ سمیت کراچی بکنگ آفس میں بلالیا ‘نمائندے نے گڑ بڑ کا سارا الزام بکنگ دفتر کے عملے پر ڈالا تو اسے بتایا گیا ٹکٹ بکنگ دفتر سے منسوخ نہیں کئے گئے ہیں ،بلکہ یہ ٹکٹس ریونیو مینجمنٹ کے ایک افسر کی جانب سے کینسل ہوئے ہیں ،جس کی شکایت کردی گئی ہے ۔ایجنٹ نے اپنا لیپ ٹاپ آن کرکے پی آئی اے سافٹ ویئر سے اسی پرواز میں سیٹ ہونے کا پتا لگانا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کچھ دیر پہلے ہی پرواز میں کچھ سیٹیں منسوخ ہوئی ہیں اور آٹومیٹڈ سسٹم کے تحت پرواز میں کچھ سیٹیں دستیاب ہیں ۔ایجنٹ نے فوراً ہی وہ سیٹیں پکڑیں اور عثمان کو بتایا کہ ان کی آدھی پریشانی ختم کردی گئی ہے پھر کسی نشست کی منسوخی کا انتظار کیا گیا اور ایک ایک کرکے رات گئے تک تمام سیٹیں حاصل کرلی گئیں ’’امت ‘‘کو دوبارہ بک ہونے والے ایک ٹکٹ کا پی این آر نمبر SZWJ8H ملا جس کے تحت عثمان کی فیملی کے ایک ممبر کو سیٹ الاٹ ہوئی تھی ۔’’امت ‘‘کو عثمان نے بتا یا کہ انہیں پی آئی اے میں ٹکٹ بک کرانے کی کافی سز ا بھگتنا پڑی ہے ،لیکن وہ اس معاملے کو پی آئی اے کے چیئرمین تک لے کر جائیں گے تاکہ آئندہ کسی مسافر کو پریشانی نہ اٹھانا پڑے۔ اہم ذرائع نے بتایا کہ ایک سال قبل پی آئی اے ہیڈ آفس کراچی سے سینٹرل ریزرویشن کنٹرول کا دفتر اسلام آباد منتقل کردیا گیا تھاجس کا مقصدیہ تھا کہ شعبے کو یونین کی مداخلت کرپٹ افسران اور ایجنٹوں سے محفوظ بنایا جا سکے ،مذکورہ فیصلہ سابق چیئرمین ناصر جعفر کے دور میں ہوا اور عملدرآمد پر پی آئی اے کو اسلام آباد سیٹ اپ کے لئےکروڑوں روپے خرچ کرنا پڑے،مذکورہ اقدامات شعبے میں ہونے والی کرپشن کو روکنے کے لئے بھی تھے،جس میں افسران اور ایجنٹوں کو فائدہ اور ایئر لائن کو کروڑوں کا نقصان پہنچا تھا۔سی آر سی کراچی میں تعینات کئی افسر ان من پسند ٹریول ایجنسی کی خواہش پر کنفرم ٹکٹ کے باوجود مسافروں کی بکنگ کینسل کر کے وہ سیٹیں انہی ٹریول ایجنٹوں کو فراہم کر دیتے تھے جبکہ بیشتر اسٹیشنز سے بلک سیٹوں کی ریزوریشن بھی ہولڈ کر لی جاتی تھی تاکہ ان کے ذریعے ٹریول ایجنٹس کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More