لندن کے ’’نامعلوم‘‘

0

ہائیڈ پارک

آپریشن سے قبل کراچی میں ’’نامعلوم‘‘ افراد کے ہاتھوں قتل و غارت کی خبریں آتی تھیں، لیکن آج کل برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ’’نامعلوم‘‘ افراد سرگرم ہیں، جنہیں معلوم کرنے میں برطانوی پولیس اب تک ناکام ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کراچی کے ’’نامعلوم‘‘ ٹی ٹی اور کلاشنکوف بردار ہوتے تھے، جب کہ لندن کے ’’نامعلوم‘‘ چاقو بردار ہیں۔ ایک اور فرق پاکستانی اور برطانوی میڈیا کے طرز عمل کا بھی ہے۔ میڈیا کتنا مہلک ہتھیار ہے، یہ کس طرح معاشروں کو الٹ پلٹ کر سکتا ہے، کس طرح آگ لگے ہونے کے دوران بھی لوگوں کو مطمئن رکھ سکتا ہے اور کس طرح پرسکون فضا میں بھی ارتعاش پیدا کر سکتا ہے، اس کا اندازہ برطانیہ میں جرائم کی رپورٹ پڑھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ رپورٹ پڑھ کر احساس ہوا کہ بالغ اور نابالغ میڈیا کتنا بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔ ملکی مفاد سے جڑا میڈیا کسی ملک کے لئے کتنا ضروری ہوتا ہے اور غیر ملکی اثر و رسوخ قبول کرنے والا میڈیا کسی ملک کے لئے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
گجرات، جہلم اور میرپور کی تکون کا یورپ بالخصوص برطانیہ سے کتنا گہرا تعلق ہے، اسے وہ جان سکتا ہے، جس کا تعلق ان اضلاع سے ہے، کیوں کہ یہاں تقریباً ہر خاندان میں سے کوئی نہ کوئی فرد یورپ میں مقیم ہے۔ یہ لوگ جب دسمبر یا اگست میں چھٹیوں پر پاکستان آتے ہیں، تو یہاں وہ اکثر امن و امان پر تشویش ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ یورپی ممالک میں امن و سکون کی مثالیں دیتے ہیں، جب تک کراچی میں آپریشن نہیں ہوا تھا، وہاں بد امنی کی آگ لگی ہوئی تھی، یورپ میں مقیم ہمارے عزیز سب سے پہلے کراچی کی ہی بات کرتے تھے، اس سے ان کی اپنے آبائی ملک سے وابستگی کا بھی اظہار ہوتا ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ ان کی باتیں سن کر بعض اوقات شرمندگی بھی محسوس ہوتی تھی، کراچی کے حوالے سے جواباً ہم بھی کہہ دیتے تھے کہ الطاف حسین کو لندن سرکار نے ہی پناہ دے رکھی ہے، اسی لئے کراچی دہکتا رہتا ہے، اب ایک طرف رب العالمین کی کرم نوازی اور ہمارے سیکورٹی اداروں کی کاوشوں سے کراچی میں خصوصاً اور ملک میں عموماً امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے، تو اس پر یورپ میں مقیم پاکستانیوں کی تشویش اور سوچ کا رخ بھی بدلا ہے، اب وہ ملکی سیاست اور معیشت پر زیادہ بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس پر ہم جیسے پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
ایک طرف پاکستان میں سیکورٹی صورت حال بہتر ہوئی ہے تو دوسری جانب خصوصاً برطانیہ میں جرائم کی شرح بہت بڑھ گئی ہے، لیکن یہ بات ہمیں تو کیا وہاں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی کم ہی معلوم ہے، اس لئے انہوں نے کبھی اس پر بات کی اور نہ کسی تشویش کا اظہار کیا۔ اسی طرح ہمیں بھی کبھی اپنا حساب برابر کرنے کا موقع نہیں ملا۔ زیادہ سے زیادہ ایک آدھ دوست نے برطانیہ میں موبائل فون چھیننے کے حوالے سے ہلکا پھلکا تذکرہ کیا، مگر گزشتہ دنوں ایک برطانوی کرائم رپورٹ اتفاق سے دیکھنے کا موقع مل گیا، تو ہماری نظریں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جی ہاں دنیا کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے شہر لندن میں گزشتہ دس ماہ کے دوران کے 116 افراد مارے جا چکے ہیں، وہاں چاقو گروپ یا گروپوں نے تھرتھلی مچائی ہوئی۔ جس روز یہ رپورٹ پڑھنے کا موقع ملا، اس دوران صرف چوبیس گھنٹوں میں چھ چاقو حملے رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے ایک جان لیوا بھی تھا۔ بس اسٹاپ ہو یا ٹرین کا اسٹیشن، آپ کسی ریستوران سے کھانا کھا کر نکل رہے ہوں، یا گھر کے باہر چہل قدمی میں مصروف، کہیں بھی آپ چاقو برداروں کے حملے سے محفوظ نہیں ہیں۔ دو سے چار افراد پر مشتمل چاقو گروپ کے ارکان اچانک آپ کے پاس آکر حملہ کرتے ہیں اور پھر بجلی کی سی تیزی سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ان میں ایک گروپ تو سینے پر عین دل کے اوپر وار کرتا ہے، یعنی اس کا مقصد ہی بے رحمی سے کسی بے گناہ کی جان لینا ہوتا ہے، جس طرح کراچی کے ’’نامعلوم‘‘ صرف اسکور پورا کرتے تھے، انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی تھی کہ مرنے والا کون ہے، بس وہ مارنے کا حکم دینے والوں کی تعداد پوری کر رہے ہوتے تھے۔
برطانوی کرائم رپورٹ پڑھ کر محسوس ہوا کہ لندن میں سرگرم چاقو گروپ کے ارکان بھی کچھ ایسی ہی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ویسے اسی لئے کہتے ہیں کہ کسی کے لئے گڑھا کھودا جائے تو بندہ خود بھی ایک دن اس میں گر جاتا ہے، یہ قانون قدرت ہے، گورے بہت ہوشیار ہیں، اگر انہیں کچھ وقت ملے تو اس پر ضرور غور کریں کہ وہ کہیں مکافات عمل کا شکار تو نہیں، کہیں انہیں کراچی کے ان ہزاروں بے گناہوں کی آہ تو نہیں لگ گئی، جو صرف اس لئے مارے گئے کہ انہیں مارنے کا حکم دینے والے کو برطانیہ نے پناہ دے رکھی تھی، بلکہ ہے۔ وہ کبھی کراچی کے ’’نامعلوموں‘‘ کی سرپرستی کرتے تھے، اس لئے قدرت نے ان کی سرزمین پر ’’نامعلوم‘‘ پیدا کر دئیے۔ ویسے بھی مظلوم کی آہ تو عرش سے خالی نہیں واپس آتی، بلکہ وہ ظالم اور اس کے سرپرستوں کے لئے جواب لے کر آتی ہے۔ برطانوی پولیس کا شمار دنیا کی بہترین سول فورس میں ہوتا ہے۔ لندن میں چپے چپے پر انہوں نے کیمرے لگا رکھے ہیں اور وہ کیمرے بھی ہمارے ہاں کی طرح نہیں کہ جو کام ہی نہ کریں، جن کی ریکارڈنگ واضح ہی نہ ہو، بلکہ انہوں نے جدید کیمرے نصب کر رکھے ہیں، دنیا کے تمام شہروں سے زیادہ لندن میں کیمرے نصب ہیں۔ لیکن اس کے باوجود چاقو بردار ’’نامعلوم‘‘ ان کے قابو میں نہیں آرہے، تو اس میں کچھ تو وجہ ہوگی۔ برطانوی حکام تلاش کریں کہ کہیں اس کی وجہ وہ آہیں تو نہیں جو انہوں نے ظلم کی سرپرستی کرکے لی ہیں اور اگر وہ اس نتیجے پر پہنچ جائیں تو مظلوم خاندانوں سے معافی مانگیں اور ظالم کی مزید سرپرستی سے ہاتھ اٹھالیں، بلکہ ان کے ہاتھ باندھ کر پاکستان اور دیگر جن ممالک سے ان کا تعلق ہے، ان کے حوالے کر دیں۔
لندن میں چاقو بردار ’’نامعلوموں‘‘ نے اتنی تھرتھلی مچائی ہوئی ہے، لیکن کیا وجہ ہے نہ تو لندن والوں کو اور نہ ہی باقی دنیا کو اس بارے میں زیادہ معلوم ہے؟ اس سوال کا جواب ہے میڈیا کا طرز عمل۔ ذرا تصور کریں کہ پاکستان میں خدا نخواستہ کسی شہر میں ایسی کوئی واردات ہو رہی ہوتی، تو کتنا خوف وہراس پھیل چکا ہوتا۔ تجارتی سرگرمیاں محدود ہو جاتیں۔ لوگ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتے اور ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل کراچی سے ہی یہ خبریں آنے لگی تھیں کہ وہاں کوئی موٹر سائیکل بردار خواتین پر حملے کرتا ہے، جس کے بعد اس کے پکڑے جانے تک اس شہر میں خواتین خوفزدہ ہوگئی تھیں۔ متاثرہ علاقوں میں سرشام کاروبار بند ہونے کی خبریں سننے کو مل رہی تھیں۔ کیوں کہ میڈیا سارا دن اس موضوع پر خبریں چلا رہا ہوتا تھا، مباحثے شروع ہوگئے تھے، حالاں کہ کوئی ہلاکت بھی نہیں ہوئی تھی، اس کے برعکس لندن میں 10 ماہ کے دوران 116 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، لیکن آپ برطانوی اخبارات اٹھالیں، بی بی سی کو دیکھ لیں، اسکائی نیوز لگالیں، کہیں بھی آپ کو لندن میں تھرتھلی مچانے والے چاقو بردار گروپوں کی خبر نہیں ملے گی۔ بس یہی بالغ اور نابالغ میڈیا کا فرق ہے، یہی ملکی مفاد سے ہم آہنگ اور غیر ملکی اثر و رسوخ قبول کرنے کا فرق ہے۔ ہمارے ہاں تو ٹائر پھٹنے پر دھماکہ کے ٹکر چل جاتے ہیں، لیکن یورپی ممالک میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آجائے تو تب بھی میڈیا اسے دبا دیتا ہے، تاکہ عوام میں خوف و ہراس نہ پھیلے، زندگی کا پہیہ معمول کے مطابق چلتا رہے، اگر ہماری طرح کا میڈیا برطانیہ میں ہوتا تو یقین کریں کہ سارے اہل لندن کو چاقو گروپوں سے اتنا خوفزدہ کر چکا ہوتا کہ لوگ گھروں سے ہی باہر نہ نکلتے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More