سہائی اور سی پیک

0

سوشل میڈیا پر ایس پی سہائی تالپور کی وہ تصویر وائرل ہو گئی ہے، جس میں اس کے تن پر وردی اور ہاتھ میں پستول ہے۔ سہائی تالپور کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اسے جیسے ہی چینی قونصل خانے پر حملے کی اطلاع ملی، وہ آفس میں بیٹھ کر آپریشن کو مانیٹر کرنے کے بجائے اس جگہ پہنچ گئی، جس جگہ قانون نافذ کرنے والوں اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ جاری تھا۔ مقابلہ ختم ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے ایس پی سہائی تالپور سے ملاقات کی اور اس بہادرانہ کردار کی تعریف کی۔ نشیبی سندھ سے تعلق رکھنے والی سہائی تالپور مذکورہ واقعے کے بعد ایک ہیروئن کی صورت ابھر رہی ہے۔ لوگ اس کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔ اس کے بارے میں اپنی معلومات اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ کوئی لکھتا ہے کہ وہ بہت محنتی اور ذہین لڑکی ہے۔ کوئی بتاتا ہے کہ سہائی تالپور سندھ کے مشہور سیاستدان رسول بخش پلیجو کی کارکن رہ چکی ہے، کوئی سہائی تالپور کے ساتھ اپنی سیلفی اپ لوڈ کرتا ہے اور کوئی اس پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’ایسی بیٹیاں قوموں کے لیے باعث عزت و فخر ہوتی ہیں۔‘‘
یہ بہت پرانی بات نہیں جب سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم بہت معیوب سمجھی جاتی تھی۔ ان لڑکیوں کے لیے رشتے ملنا بڑی مشکل بات ہوا کرتی تھی جو اسکولوں میں پڑھتی تھیں۔ کالج تک پڑھنے والی لڑکیوں کے بارے میں تو بڑے افسانے بنا کرتے تھے۔ وہ بہت مشکل ہوتا تھا کہ کوئی سندھی لڑکی اسکول کے بعد کالج اور کالج کے بعد یونیورسٹی میں پڑھے۔ یہ وہ دور تھا جب لڑکیوں کے اسکول عام نہ تھے۔ لڑکیوں کے والدین کو مجبور ہوکر اپنی بچیوں کو لڑکوں کے اسکولوں میں پڑھانا پڑتا تھا۔ پھر لڑکیوں کے اسکول قائم ہوئے تو لڑکیوں کی تعلیم پر عائد سماجی پابندی کچھ حد تک نرم ہوئی۔ پھر لڑکیاں گرلز کالج میں جانے لگیں۔ مگر عام طور پر سندھ میں لڑکیوں کو پانچویں، چھٹی یا زیادہ سے زیادہ ساتویں جماعت تک تعلیم دلوانے کے بعد انہیں اسکول سے اٹھایا جاتا تھا اور اس دور میں چودہ پندرہ برس کی لڑکی کی شادی عام سی بات تھی۔ سندھ میں اس دور کو سفید بالوں والے افسانوی انداز سے یاد کرتے ہیں، جب ان کے ساتھ یونیورسٹی میں چند لڑکیاں پڑھا کرتی تھیں۔ اس دور میں مشکل سے کسی کلاس میں ایک یا دو لڑکیاں پڑھا کرتی تھیں۔ بہت ساری کلاسوں میں تو سارے کے سارے لڑکے ہوا کرتے تھے۔ اس وقت اندرون سندھ کی سب سے بڑی یونیورسٹی سندھ یونیورسٹی میں طالبات کا سب سے بڑا ہاسٹل ہے۔ یونیورسٹی کے چھوٹے کمروں میں چار چار لڑکیوں کو رہنا پڑتا ہے۔ حالانکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ماروی ہاسٹل کے اکثر کمرے خالی ہوا کرتے تھے اور برسات کی راتوں میں لڑکیاں خوف کے باعث ایک دوسرے کے کمرے میں رہا کرتی تھیں۔ وہاں جہاں تیس سال قبل یونیورسٹی کی کلاسوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کا تناسب مشکل سے چار پانچ فیصد ہوا کرتا تھا، اب وہاں سرسری طور پر لڑکیوں کی تعداد پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔
اب وہ دور نہیں رہا جب کالج جانے والی لڑکی کے لیے رشتے ملنا مشکل ہوتا تھا۔ اب وہ دور نہیں جب کہا جاتا تھا کہ ’’ہم بچیوں کو کیوں پڑھائیں؟ کیا ہمیں ان سے ملازمتیں کروانی ہیں؟‘‘ مگراب وہ دور ہے جس میں سرکاری ملازمت کرنے والی لڑکی کے لیے رشتوں کی لائن لگ جاتی ہے اور ان پڑھ لڑکی کے بال سفید ہو جاتے ہیں، مگر اس کے لیے مناسب رشتہ نہیں آتا۔ اس دور میں خاندان یہ نہیں چاہتے کہ ان کی لڑکی پڑھنے کے بعد گرلز اسکول یا گرلز کالج میں ٹیچر کی حیثیت سے ملازمت کرے۔ اس دور میں لڑکیوں کو کم از کم ڈاکٹروں کی صورت میں دیکھا جاتا ہے۔ اب سندھ کی لڑکیاں بیرون ملک بھی جاتی ہیں اور فوج میں ملازمت بھی کرتی ہیں۔ اب اکثر لڑکیاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے اور اعلیٰ افسر بننے کا نہ صرف خواب دیکھتی ہیں، بلکہ سہائی تالپور کی طرح مقابلے کا امتحان پاس کرنے بعد پولیس جیسے محکمے کا فخر سے انتخاب بھی کرتی ہیں۔ یہ وہ دور ہے جب وڈیروں کی بچیاں اسمبلی کے ایوانوں میں پہنچتی ہیں۔ وڈیرے کوشش کرتے ہیں کہ ان کو میڈیا کی کوریج ملے۔ وہ دن گزر گئے جب لڑکیاں سفید برقعے پہن کر بسوں میں سفر کرتی تھیں۔ اب سندھ کے چھوٹے شہروں میں بھی لڑکیاں گاڑی چلاتے نظر آتی ہیں۔ اس ماحول میں جب سہائی جیسی لڑکی دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے میڈیا میں نظر آتی ہے تو اکثر والدین اپنی بچیوں کے لیے سہائی بننے کے سپنے دیکھتے ہیں۔
اب لڑکیوں کو اچھا مستقبل بنانے کے خواب دیکھنے کی آزادی ہے۔ وہ آزادی ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اس آزادی کو لڑکیاں مثبت انداز سے استعمال کرتے ہوئے اپنے خاندان والوں کے لیے باعث فخر بن جاتی ہیں، مگر یہ کافی نہیں ہے۔
سندھ کی لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر سہائی تالپور کی تصویر کو حسرت سے دیکھنے یا خوشی سے شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ چینی قونصل خانے پر حملہ کیوں ہوا؟ ان لڑکیوں کو ’’سی پیک‘‘ کے حوالے سے جنم لینے والی علاقائی اور عالمی سیاست پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ اس وقت عام طور ہمارا روایتی میڈیا اور خاص طور پر ہمارا سوشل میڈیا فیس بک پر بہت سارے لائکس سمیٹنے کی دھن کا شکار ہے۔ یہ وقت ہے جب نہ صرف ہمارے لڑکے بلکہ ہماری لڑکیاں بھی اپنے ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم سوشل میڈیا کا سطحی استعمال کرنے کے بجائے ملکی معاملات کی گہرائی میں جائیں۔ ہم ان اسباب کا جائزہ لیں، جن کے باعث دہشت گردی جنم لیتی ہے۔ ہمارے بچوں اور ہماری بچیوں کو سمجھنا ہوگا کہ حملے اور حادثات میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ کوئی بھی حملہ حادثہ نہیں ہوتا۔ ہر حملے کے پیچھے ایک پیچیدہ پلاننگ ہوتی ہے۔ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ دہشت گرد حملوں کے پیچھے صرف ملک کے معاشرتی تضادات نہیں ہوتے، بلکہ ان حملوں میں غیر ملکی قوتوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو ان دہشت گرد حملوں کے پیچھے غیر ملکی مفادات کی حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔ یہ صرف ان کا حق نہیں ہے کہ وہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ دہشت گردی کیوں ہوتی ہے؟ یہ ان کا فرض بھی ہے کہ انہیں اپنے ملک کا مفاد معلوم ہو اور اس کے ساتھ ان کے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہئے کہ دوسرے ممالک کے وہ کون سے مفادات ہیں، جو ہمارے ملک کے مفاد کے تضاد میں ہیں۔
ہمارے بچوں کو سمجھنا ہوگا کہ کراچی میں چینی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کا اصل ہدف دو پولیس اہلکار نہیں تھے۔ یہ حملہ جو بظاہر چینی قونصل خانے پر ہوا، یہ حملہ دراصل سی پیک پر تھا، کیوں کہ سی پیک کے معاملے پر نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کے وہ سارے ممالک پاکستان کے خلاف ہیں، جو پاکستان کو مجبور اور محکوم دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے بیٹوں اور بیٹیوں کو یہ سمجھ آنی ضروری ہے کہ سی پیک صرف چند ملازمتوں کا نام نہیں ہے۔ یہ کافی نہیں ہے کہ ہم چینی زبان سیکھیں اور سی پیک منصوبے سے پیدا ہونے والی ملازمتیں حاصل کریں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم سی پیک کے سلسلے میں اس سازش کا پتہ لگائیں، جو پاکستان کے خلاف اس منصوبے کی ابتدا سے سرگرم عمل ہے۔
پاکستانی میڈیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے کو اس کے سارے پس منظر میں پیش نہیں کرتا۔ وہ بھارتی جاسوس جس کا ذکر اب میڈیا میں نہیں ہو رہا، وہ کل بھوشن یادیو سی پیک کے خلاف سازشوں کا جال بچھا رہا تھا۔ پاکستان کے مفادات پر ضرب لگانے کے لیے کل بھوشن دہشت گردی کا نیٹ ورک بنا رہا تھا۔ ہمارے بچوں اور ہماری بچیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ’’را‘‘ کیا ہے؟ دہشت گردی کے منصوبے بنانے والی دوسری خفیہ ایجنسیاں کس طرح ہمارے مقامی تضادات کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
چینی قونصل خانے پر ہونے والا حملہ اس سازش کا تسلسل ہے، جو سی پیک کے خلاف پچھلی ایک دہائی سے جاری ہے۔ ہماری نئی نسل کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ سی پیک کے خلاف امریکہ اور بھارت ایک پیج پر ہیں۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان معاشی طور پر اس کے آگے مجبور رہے اور وہ آئی ایم ایف کی معرفت پاکستان کو ان شرائط کے شکنجے میں قید کرے، جن شرائط سے پاکستان کبھی بھی خوشحالی کے راستے پر قدم نہ رکھ سکے۔ ہماری نسل نو کو یہ بات بھی معلوم ہونی چاہئے کہ ہر ملک کے اپنے مخصوص مفادات ہوتے ہیں۔ اگر چین سی پیک کے سلسلے میں اتنے بڑے منصوبے بنا رہا ہے تو اس کا مقصد پاکستان کے ساتھ محبت نہیں۔ چین کو اپنے مفادات عزیز ہیں۔ چین کو گوادر منصوبے کی معرفت ایسا راستہ مل رہا ہے، جس پر چل کر وہ اس عالمی مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتا ہے، جس مارکیٹ میں داخل ہونا چین کا دیرینہ خواب ہے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے پاس گودار کا وہ ساحل ہے، جس کو دنیا کا ہر ملک حسرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔
پاکستان کے پاسبان اس کے نوجوان ہیں۔ وہ نوجوان جو تاریخ کے ارتقاء سے گزر کر وہ آسمان چھو رہے ہیں، جس آسمان کی طرف علامہ اقبالؒ نے اشارہ کیا تھا۔
’’ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے‘‘
سہائی تالپور ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ مگر ہمارے بچوں کو سہائی تالپور سے آگے جانا ہوگا۔ ان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کے ملک کا مفاد کیا ہے؟ اور کون اس مفاد کا مخالف ہے؟
ہماری ہر بچی کو سہائی تالپور کی صورت ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے وطن کے مفادات کے خلاف ہونے والے حملوں کے سامنے ایسی دیوار بن سکتی ہے، جس پر دیوار چین بھی رشک کرے۔
سہائی تالپور زندہ باد
پاکستان پائندہ باد!
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More