سکھوں کے قتل عام میںملوث کانگریسی رہنما کو 34برس بعد سزا

0

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی عدالت نے کانگریس کے ایک سینیئر رہنما کو 1984 میں سکھ مخالف فسادات کے دوران ہجوم کو مشتعل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔اس فیصلے کو سکھ مخالف فسادات کے سلسلے میں اب تک کا سب سے اہم فیصلہ کہا جا رہا ہے۔کانگریس رہنما سجن کمار 1984 میں رکن پارلیمان تھے اور انھیں ’ہجوم کو سکھوں کو مارنے کے لیے مشتعل کرنے‘ کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔فیصلے میں دہلی ہائی کورٹ کے جج نے کہا کہ ملزم سیاسی سرپرستی کے سبب انصاف سے بچتا رہا۔خیال رہے کہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے اپنے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا تھا جس کے بعد ہونے والے فسادات میں تین ہزار سے زیادہ سکھ مارے گئے تھے۔34سال تک اہم رہنما ان سکھ مخالف فسادات میں شامل ہونے کے الزام سے بچتے رہے لیکن پیر کو سجن کمار کے مرتکب پائے جانے کے بعد اس میں تبدیلی نظر آئی ہے۔سجن کمار کے خلاف فسادات سے متعلق کئی مقدمات درج ہیں لیکن یہ فیصلہ دہلی کے ایک سکھ خاندان کے پانچ افراد کے قتل کے سلسلے میں آیا ہے۔جگدیش کور کے خاندان کے پانچ مرد 34 سال قبل بہیمانہ طور پر قتل کر دیے گئے تھے۔نومبر 1984 کے فسادات میں مارے جانے والے سکھوں کے ہزاروں رشتہ داروں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔نرپریت کور کے والد کو ان کی آنکھوں کے سامنے زندہ جلا دیا گیا تھا۔ 34 سال بعد آنے والے اس فیصلے کے بعد وہ رو پڑیں اور عدالت کا شکریہ ادا کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More