شادی ہالوں-کمرشل عمارتوں کےخلاف کارروائی روک دی گئی

0

کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت سندھ نے شادی ہالوں کو ایس بی سی اے کی جانب سے تین دن کا نوٹس واپس لینے کے ساتھ رہائش سے کمرشل پلاٹوں میں تبدیل کئے گئے شادی ہالز کو مسمار نہ کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ رہائشی مقامات کو بھی مسمار نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔وزیر بلدیات کی یقین دہانی پر شادی ہالز ایسوسی ایشن نے آج سے ہالوں کو بند رکھنے کا فیصلہ واپس لے لیا، جس پر بکنگ کرانے والے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ کراچی کے کمرشل اور رہائشی علاقوں میں قائم ہزاروں شادی ہالز میں سے صرف 200 کو رجسٹرڈ قراردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہائوس میں ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسے شادی ہالز جو فلاحی پلاٹوں اور غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی اور اس معاملے کا سپریم کورٹ کے حکم اور قانون کی روشنی میں کوئی بہتر حل نکالا جائے گا۔طریقہ کار طے کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے تجاوزات ختم کرانے اور غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کے حکم کی روشنی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی( ایس بی سی اے) کی انتظامیہ نے غیرقانونی طور پر اور رہائشی پلاٹوں کو کمرشل پلاٹوں میں تبدیل کرکے تعمیر کئے گئے شادی ہالز کے مالکان کو تین دن کے اندر انہیں تعمیرات ختم کرنے کے نوٹس جاری کئے تھے جن کے بعد شادی ہالز ایسوسی ایشن کے مالکان نے آج سے ہڑتال پر جانے کا اعلان کردیا تھا۔مذکورہ اعلان سے وہ عام شہری جنہوں نے مختلف شادی ہالز بک کرائے تھے ان کی پریشانیاں بڑھ گئی تھیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔ شادی ہال مالکان نے اعلان کیا تھا کہ جن لوگوں نے ہال بک کرائے تھے وہ آ کر اپنی رقم واپس لے سکتے ہیں۔تاہم تقریبات رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ کارڈز چھپ چکے ہیں، مہمانوں کو بلایا جاچکا ہے، کھانے کا آرڈر دیا جا چکا ہے، عین وقت پر تقریبات کی منسوخی سے انہیں ناصرف مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا، بلکہ ازسرنو تمام انتظامات کرنا پڑیں گے۔ جس سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔اتوار سے شادی ہال بند کرنے کے اعلان سے ہزاروں تقریبات خطرے میں پڑگئی تھیں۔اگرچہ رواں برس شادیوں کا سیزن اختتامی مراحل میں ہے، تاہم ویک اینڈ پر مہندی، برات یا ولیمے کی تقریبات رکھنے کا رحجان عام دنوں کی نسبت زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے شادی ہالز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور ایسا نہیں ہے کہ پیر کے روز سے ان کے شادی ہالز کیخلاف آپریشن شروع کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں صوبائی وزیر بلدیات نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شادہ سے بھی رابطہ کرکے انہیں آگاہ کیا جس کا وزیراعلیٰ سندھ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے گزشتہ رات نو بجے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، صوبائی سیکریٹری محکمہ داخلہ، ڈی جی ایس بی سی اے، وزیر اعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری، صوبائی سیکریٹری بلدیات و دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تجاوزات کیخلاف جاری آپریشن اور سپریم کورٹ کے احکامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو کہا گیا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لے کر کارروائی کی جائے لیکن ایس بی سی اے نے ایسا نہیں کیا اس معاملے کا جائزہ لے کر کارروائی کرنے کیلئے وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی اور اجلاس میں ایس بی سی اے کو شادی ہالز کے مالکان کو جاری کردہ نوٹس فوری طور پر واپس لینے اور انہیں 45 دن کی مہلت دینے کا حکم دیا تاکہ وہ شہری جنہوں نے ہالز بک کرائے ہیں وہ متاثر نہ ہوں اور اس حوالے سے طریقہ کار طے کیا جائے گا، تاکہ جو شادی ہالز غیر قانونی ہیں اور فلاحی پلاٹوں پر تعمیر کئے گئے ہیں وہ مزید بکنگ نہ کرسکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی میں 200شادی ہالز رجسٹرڈ ہیں، جبکہ کمرشل علاقوں کے علاوہ رہائشی علاقوں میں شادی ہالز بنے ہوئے ہیں، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ بڑی تعداد میں ایسے شادی ہالز بھی ہیں، جن کے پلاٹ رہائشی سے کمرشل میں تبدیل کئے گئے ہیں، جن میں بعض شادی ہالز ایسے بھی ہیں جن کی زمین کا معیار عدالتی حکم پر تبدیل کیا گیا ہے۔اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں بھی کئی ایسے پلاٹس وغیرہ ہیں جنہیں رہائشی سے کمرشل میں تبدیل کیا گیا ہے تو وہ وہی کام اگر کراچی میں ہو تو ایسے برا نہیں سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے شادی ہالز جن کی زمین کی کیٹیگری تبدیل ہوئی ہے انہیں مسمار نہیں کیا جائے گا۔ اور اس سلسلے میں عدالت میں نظرثانی کی درخواست دائر کریں گے۔ دریں اثنا اجلاس میں واضح کہا گیا کہ ایسے شادی ہالز جو فلاحی پلاٹوں اور غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی اور اس معاملے کا سپریم کورٹ کے حکم اور قانون کی روشنی میں کوئی بہتر حل نکالا جائے گا۔ اجلاس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا کہ رہائشی علاقوں کے ایسے اسکولز جو 400 مربع گز اراضی پر مشتمل نہیں اور ان کا فاصلہ 60 گز تک کا ہے انہیں اسکولز بند کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ تاکہ عوام کو سہولت حاصل ہو۔ اجلاس کے بعد صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وہی بات دھرائی کہ حکومت لوگوں کو بے گھر کرنا نہیں چاہتی اور لوگوں کے گھر گرانا نہیں چاہتی اس کیلئے وہ اپنی وزارت چھوڑنے کو ترجیح دیں گے لیکن یہ کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بھی عدالت سے رجوع کیا جائے گا، نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے، حکومت سندھ چاہتی ہے کہ اس معاملے کا بھی ایسا کوئی حل نکالا جائے، جس سے عام شہری متاثر نہ ہو اور قانون کی پاسداری بھی ہو۔ دریں اثنا ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ کے دور میں فلاحی پلاٹوں کے ساتھ اور تجاوزات کرکے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر شادی ہالز کے ساتھ مختلف تعمیرات کرائی گئی اور محمود آباد کے ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے مخصوص زمین پر بھی سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی خاطر غیر قانونی طور پر الاٹمنٹ کرکے گھر تعمیر کرائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میئر کراچی وسیم اختر بھی اس حوالے سے حکومت سندھ کے ساتھ ہیں کہ گھر وغیرہ گرانے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے۔علاوہ ازیں شادی ہالز ایسوسی ایشن نے آج سے ہالز بند رکھنے کا فیصلہ واپس لے لیا، جنرل سیکریٹری میرج ہال ایسوسی ایشن خواجہ طارق کا کہنا ہے کہ وزیر بلدیات کی پیر کو کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی پر ہڑتال کا فیصلہ واپس لیا۔انہوں نے بتایا کہ ایس بی سی اے کو شادی ہالز سےمتعلق فہرستیں تیار کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے، وزیربلدیات نے قانونی، کمرشل شادی ہالز کیخلاف کارروائی نہ کرنےکایقین دلایا ہے۔ سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ ایسے شادی ہالز جنہیں لیگل کیا جاسکتا ہے انہیں بھی نہیں گرایا جائے گا۔ قبل ازیں شادی ہالز ایسوسی ایشن نے آباد کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں شادی ہالز بند کرانے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس حوالے سےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہاکہ فوری طورپر کوئی شادی ہال نہیں گرایا جائے گے، معاملے پر غور کے لئے کمیٹی بنادی ہے، جو شادی ہال غیر قانونی ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائےگی اور جو شادی ہالز قانونی ہیں ان کے مالکان کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ پیر سے کوئی شادی ہال نہیں توڑا جائے گا، کوشش ہے جن کی شادیاں کل ہورہی ہے ان کا مسئلہ حل کراؤں تاکہ پہلے سے جن لوگوں کی بکنگز ہیں انہیں متاثر نہ کریں۔ وزیر بلدیات سندھ کے مطابق ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بہتر طریقے سے حل ہوجائے، سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں حل نکال سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More