تابعین کے ایمان افروز واقعات

0

حضرت طاووس بن کیسانؒ
صحابہ کرامؓ کی صفات:
حضرت طاووس بن کیسانؒ ان مبارک ہستیوں میں سے تھے، جو بہت متقی، پرہیزگار اور ایمان والے تھے۔
مسجدِ نبویؐ کے اندر جو صحابہ کرامؓ کی جماعت تیار ہوئی تھی، اس جماعت کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد حضرت طاووس بن کیسانؒ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے اساتذہ کرام کی اتباع کی اور صحابہ کرامؓ کی بہت سی صفات اپنے اندر پیدا کیں، مثلا:
(1) ’’حق تعالیٰ کی ذات پر ایمان کامل اور پختہ یقین۔‘‘
(2) ’’بات کی سچائی۔‘‘
(3) ’’فانی دنیا اور اس کی چیزوں سے دل نہ لگانا۔‘‘
(4) ’’ہر لمحہ اور ہر وقت خدا تبارک و تعالیٰ کی رضا کی فکر، (کہ رب تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائے، کوئی ایسا کام نہ کروں، جس سے رب تعالیٰ ناراض ہو جائے)۔‘‘
(5) ’’حق بات کہنے میں کسی سے نہ جھجکنا اور کسی کی پروا کئے بغیر حق بات کہنا۔ چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی دینی پڑے۔‘‘
یہ وہ مبارک صفات تھیں، جو ان کو اپنے اساتذہ کرام سے ملی تھیں۔
رسول اقدسؐ سے انہیں یہ تعلیم ملی: ’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔ وہ خیر خواہی خدا تعالیٰ، اس کی کتاب، اس کے رسولؐ، مسلمان حکمرانوں اور عام لوگوں کے لیے ہے۔‘‘
یہ ہیں ذکوان بن کیسانؒ جن کا لقب طاووس تھا، انہیں یہ لقب اس بنا پر دیا گیا کہ وہ حقیقتاً اپنے دور میں تمام علماء و فقہاء میں اونچا درجہ رکھتے تھے، کیوں کہ علم فقہ میں بڑے ماہر تھے۔
طاووس عربی زبان میں مور کو کہا جاتا ہے، جس طرح مور تمام پرندوں میں اپنے حسن و جمال کی وجہ سے ایک الگ حیثیت رکھتا ہے، اسی طرح یہ بھی علم کے اعتبار سے علماء فقہاء میں ایک الگ حیثیت رکھتے تھے۔
حضرت طاووس بن کیسانؒ یمن کے رہنے والے تھے، ان دنوں یمن گورنر حجاج بن یوسف کا بھائی محمد بن یوسف ثقفی تھا۔ حجاج بن یوسف نے سارے علاقے میں رعب و دبدبہ اور شان و شوکت قائم ہو جانے کے بعد اپنے بھائی محمد بن یوسف کو یمن کا گورنر مقرر کر کے بھیجا۔ اس میں اپنے بھائی حجاج کی بہت سی برائیاں تو پائی جاتی تھیں، لیکن اس کی کوئی بھی خوبی اس میں نہیں تھی۔
گورنر کو نصحیت
سردی کے موسم میں ایک دن صبح سویرے حضرت طاووس بن کیسانؒ حضرت وہب بن منبہؒ کے ہمراہ یمن کے گورنر محمد بن یوسف ثقفی کو وعظ و نصیحت کی نیت سے ملنے گئے۔ محل میں پہلے ہی بہت سے لوگ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، حضرت طاووسؒ نے آتے ہی وعظ و نصیحت شروع کردی۔
گورنر نے اپنے ایک دربان کو حکم دیا کہ ایک قیمتی اور بہترین قسم کی شال لاؤ اور اس واعظ (نصیحت کرنے والے) مہمان کے کندھوں پر ڈال دو!
دربان نے شاہی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک قیمتی عالی شان شال حضرت طاووسؒ کے کندھوں پر ڈال دی، لیکن انہوں نے وعظ و نصیحت کے دوران ہی اپنے کندھوں کو جھٹکا دینا شروع کیا، جس سے آہستہ آہستہ شال کندھوں سے سرکتی ہوئی نیچے گر گئی۔ آپؒ اسے وہیں چھوڑ کر دربار سے باہر چلے گئے اور اسے دیکھا تک نہیں، جیسے طبیعت پر اس کا وجود بہت گراں گزرا ہو۔
گورنر کے چہرے کا رنگ غصے کی وجہ سے سرخ ہوگیا، لیکن زبان سے کچھ نہ کہا۔ جب حضرت طاووسؒ اور ان کے ساتھی مجلس سے باہر گئے تو ان کے دوست وہب بن منبہؒ نے مشورہ دیا: اگر آپ قیمتی شاہی شال کا تحفہ قبول کر لیتے تو کیا حرج تھا؟ گورنر کو غصہ دلانے سے بھی بچ جاتے!
اگر آپ اسے اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتے تھے تو اسے بیچ کر فقراء و مساکین کی مدد کرتے۔
حضرت طاووسؒ بولے: آپ مجھے یہ کیسا مشورہ دے رہے ہیں؟ اگر آج میں اسے قبول کر لیتا اور فقراء و مساکین میں اسے تقسیم بھی کر دیتا، تو کل علماء اپنے حکمرانوں سے تحائف قبول کرنے کے لیے یہ دلیل اور ثبوت پیش کرتے کہ طاووس نے بھی تو تحفہ قبول کیا تھا۔
لیکن وہ خدا نہ کرے فقراء و مساکین میں تقسیم کرنے کے بجائے خود استعمال کرتے تو ہم گناہ کا ذریعہ بن جاتے۔ (جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More