نیپال:9روز بعد ریسکیو کیے گئے کارکن کی حالت تشویشناک
دوسرے نمبر پر نکالے جانے والے کارکن کبیر مہارجن کی حالت نازک ہے اور انہیں کھٹمنڈو کے آرمی ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا ہے۔
نیپال:9روز بعد ریسکیو کیے گئے کارکن کی حالت تشویشناک
نیپال میں سیلاب کے بعد ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ سے نو روز بعد زندہ نکالے گئے دو کارکنوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
نیپال کے وزیراعظم کے دفتر کے مطابق سرنگ سے دوسرے نمبر پر نکالے جانے والے کارکن کبیر مہارجن کی حالت نازک ہے اور انہیں کھٹمنڈو کے آرمی ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پہلے ریسکیو کیے گئے کارکن سنجیا ساہا کو بھی اسی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ اور ضروری علاج کیا جا رہا ہے۔ دونوں کارکنوں کو جمعہ کی صبح ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو پہنچایا گیا تھا۔
یہ دونوں کارکن تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں تقریباً نو روز تک پھنسے رہے، جنہیں امدادی ٹیموں نے طویل کوششوں کے بعد بحفاظت باہر نکال لیا۔
یہ بھی پڑھیں :۔ نیپال میں بڑے سیلاب کے بعد واٹس ایپ گروپ امید کی کرن بن گیا
دوسری جانب نیپال میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے دیگر افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ 150 سے زائد افراد اب بھی مختلف سرنگوں میں محصور ہوسکتے ہیں۔
امدادی ٹیمیں کم از کم چھ ہائیڈرو پاور سرنگوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں بھاری مشینری اور خصوصی ٹیموں کی مدد سے پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:۔ نیپال: سیلاب کے 9 روز بعد سرنگ سے دو مزدور زندہ نکال لیے گئے
امدادی حکام کا کہنا ہے کہ وقت تیزی سے گزرنے کے باعث باقی افراد کو جلد از جلد تلاش کرکے زندہ نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
دریں اثنا، ریسکیو کیے گئے دونوں کارکنوں کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں انہیں نو روز بعد سرنگ سے باہر نکالے جانے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ دونوں کارکنوں کی بحفاظت بازیابی نے دیگر لاپتہ افراد کے اہل خانہ میں بھی امید پیدا کردی ہے۔