ڈیفنس تشدد کیس، مریم اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج
مقدمہ متاثرہ خاتون نورالعین کی درخواست پر درج کیا گیا، جبکہ اس سے قبل مریم کی مدعیت میں نورالعین، ان کے بھائی اور والدہ کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔
فائل فوٹو
کراچی: ڈیفنس فیز 6 کے خیابانِ بخاری میں پڑوسی خاتون نورالعین پر مبینہ تشدد کے معاملے میں مریم علی اور موقع پر موجود بعض پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ متاثرہ خاتون نورالعین کی درخواست پر درج کیا گیا، جبکہ اس سے قبل مریم کی مدعیت میں نورالعین، ان کے بھائی اور والدہ کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ واقعے سے متعلق پولیس کے کردار پر سامنے آنے والی شکایات کے بعد معاملے کی انکوائری بھی کی گئی تھی۔
ایف آئی آر میں نورالعین نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک پولیس اہلکار انہیں مریم کی جانب سے نیچے بلائے جانے کا پیغام دینے ان کے فلیٹ پر آیا۔ ان کے مطابق کچھ دیر بعد مریم مبینہ طور پر گالم گلوچ کرتے ہوئے فلیٹ پر پہنچیں اور دروازے پر لاتیں ماریں۔
درخواست کے مطابق دروازہ کھولنے پر مریم نے مبینہ طور پر نورالعین کو بالوں سے پکڑا اور ان کا موبائل فون چھین کر نیچے پھینک دیا۔ نورالعین کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ نے معاملہ روکنے کی کوشش کی تو انہیں بھی مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ مریم بعد میں اپنی بیٹی اور بعض پولیس اہلکاروں کے ہمراہ دوبارہ آئیں، جہاں مبینہ طور پر ڈمبل کے ذریعے نورالعین اور ان کے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی اور دیگر ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے۔ فوٹیج میں پولیس اہلکاروں کی موجودگی اور ایک سادہ لباس شخص کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمرے کو نقصان پہنچانے کے مناظر بھی رپورٹ ہوئے تھے۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بعض پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی کی سفارش کی تھی۔ رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری سمیت متعلقہ اہلکاروں کی انتظامی غفلت کا بھی ذکر کیا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں متاثرہ خاندان کے خلاف پہلے درج مقدمے کو ختم کرنے اور تشدد کا نشانہ بننے والے خاندان کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کی سفارش بھی کی گئی تھی۔
پولیس نے نئی ایف آئی آر درج کرکے معاملے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے، جبکہ مقدمے میں عائد الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے دوران ہوگا۔