جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد، مزید 2 ملزمان گرفتار
واقعے کا مقدمہ سچل تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں تشدد، ہراساں کرنے اور اقدام قتل سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں
فائل فوٹو
کراچی: جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی تعلیم کے چیئرمین پروفیسر عارف خان ساقی پر مبینہ تشدد کے کیس میں پولیس نے مزید دو ملزمان کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد گرفتار افراد کی تعداد 5 ہوگئی۔
پولیس کے مطابق تازہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں سیکیورٹی گارڈز گل شیر اور تاج محمد شامل ہیں، جبکہ اس سے قبل شوکت علی، عمران علی اور غلام عمر کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔
پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ سچل تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں تشدد، ہراساں کرنے اور اقدام قتل سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ ایک نامزد ملزم کے علاوہ 3 سے 4 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
مقدمے کے مطابق پروفیسر عارف خان ساقی اپنے بھتیجے وحید الرحمن کے ہمراہ جامعہ کراچی جارہے تھے کہ صفورا چورنگی کے قریب ایک ریسٹورنٹ سے ڈبل کیبن گاڑی باہر نکلی۔
ایف آئی آر کے مطابق گاڑی میں موجود ایک سیکیورٹی گارڈ نے پروفیسر کو رکنے کا اشارہ کیا، جبکہ ڈبل کیبن کے ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے ان کی گاڑی کے اگلے حصے کو ٹکر مار دی۔
پولیس مزید تفتیش کررہی ہے جبکہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔