پشاور: سی ٹی ڈی کی کارروائی میں اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گرد ہلاک
ہلاک دہشت گردوں میں کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر عمران عرف عبداللہ، بلال عرف ابوبکر بھی شامل،ایس ایم جی، 4 پستول، 2 ہینڈ گرینیڈ، 5 میگزین و خودساختہ آئی ای ڈی برآمد
فائل فوٹو
پشاور: شمشتو کیمپ کے قریب ارمڑ کے ایک کمپاؤنڈ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کمپاؤنڈ میں داعش خراسان (آئی ایس کے پی) سے وابستہ دہشت گرد حساس اداروں، امام بارگاہوں اور گرجا گھروں پر بم دھماکوں سمیت دیگر بڑی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں میں کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر عمران عرف عبداللہ، بلال عرف ابوبکر بھی شامل ہے، جبکہ دوسرے ہلاک دہشت گردوں میں شاہد اللہ ولد میراج، سکنہ اپر مومند بھی شامل ہے۔ دیگر دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے ایس ایم جی، 4 پستول، 2 ہینڈ گرینیڈ، 5 میگزین اور ایک خودساختہ آئی ای ڈی برآمد ہوئی۔
حکام کے مطابق عمران عرف ابوبکر اسلام آباد سمیت دیگر اضلاع میں بم دھماکوں، پولیس اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ سمیت دہشت گردی کے 20 مقدمات میں مطلوب تھا۔ وہ مولانا خانزیب اور سابق سینیٹر ہدایت اللہ خان سمیت دیگر افراد کی شہادت میں بھی ملوث اور مطلوب تھا۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ عمران عرف ابوبکر ریحانزیب کی شہادت میں براہ راست ملوث تھا اور دیگر دہشت گردوں کے ہمراہ موقع پر موجود رہ کر فائرنگ بھی کی تھی۔ وہ 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی (ف) کے ورکرز کنونشن پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ملوث تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق 6 فروری 2026 کو ترلئی، اسلام آباد کی امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی عمران عرف ابوبکر مطلوب اور ملوث تھا۔ عمران نے حملے کے لیے خودکش جیکٹ باجوڑ سے منگوائی اور خودکش بمبار کو نوشہرہ سے ترلئی اسلام آباد پہنچایا تھا۔
حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد شاہد اللہ نے ترلئی امام بارگاہ کی ریکی اور ٹارگٹ کی نشاندہی کی تھی۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ عمران عرف ابوبکر کی گرفتاری یا سراغ دینے کی اطلاع پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے انعام مقرر تھا، کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔