سعودی تنصیبات پر حملہ، عراق نے تحقیقات کا حکم دے دیا
تحقیقات کے دوران اگر کسی فرد کے حملے میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
فائل فوٹو
عراقی حکومت نے سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی تیل پائپ لائن پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔
عراقی مسلح افواج کے مطابق وزیر اعظم علی الزیدی نے واقعے کی مکمل اور فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے تاکہ حملے کی تفصیلات اور اس کے پس پردہ عوامل کا تعین کیا جا سکے۔
عراقی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت سعودی عرب کے مؤقف اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے اس کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتی ہے۔
عراقی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ تحقیقات کے دوران اگر کسی فرد کے حملے میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عراق کی سرزمین سے سعودی عرب میں مختلف تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ان حملوں کے جواب میں سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے بھی کارروائیاں کی گئی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق ماضی کی ایک کارروائی میں ایران کے پاسداران انقلاب کے متعدد ارکان بھی ہلاک ہوئے تھے۔ موجودہ واقعے کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد حملے کے ذمہ داروں سے متعلق مزید معلومات واضح ہونے کا امکان ہے۔