حکومت کا ٹیکس اصلاحات میں ناکامی کے باوجود مزید قرض لینے کا فیصلہ

ایشیائی ترقیاتی بینک سے 57 ارب 10 کروڑ 90 لاکھ روپے قرض لینے کی منظوری دی گئی ہے۔

September 12, 2026 · قومی
حکومت کا ٹیکس اصلاحات میں ناکامی کے باوجود مزید قرض لینے کا فیصلہ

حکومت کا ٹیکس اصلاحات میں ناکامی کے باوجود مزید قرض لینے کا فیصلہ

حکومت نے ٹیکس اصلاحات میں مسلسل ناکامی کے باوجود مزید قرض لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 57 ارب 10 کروڑ 90 لاکھ روپے قرض لیا جائے گا اور اس پر پاکستان سالانہ ڈیڑھ سے 2 فیصد تک سود ادا کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق اس منصوبے کو ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزیشن ریونیو ایڈمنسٹریشن کا نام دیا گیا ہے، جبکہ قرض سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 22.5 ارب روپے کنسلٹنسی سروسز اور 2.77 ارب روپے پروجیکٹ مینجمنٹ پر خرچ ہوں گے،

جس کے بعد اگلے 5 سال میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 1 کروڑ 20 لاکھ کرنے کا پلان ہے۔ پاکستان میں سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی موجودہ تعداد 70 لاکھ ہے، اور ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی موجودہ شرح 10.3 فیصد ہے، جبکہ اس منصوبے کے تحت 2029 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا ہدف 13.5 مقرر کیا جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے مطابق اس پلان کے تحت نئے لوگوں کے گرد ٹیکس شکنجہ سخت کیا جائے گا، جبکہ ایف بی آر کے 5 سالہ ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت پہلے سے اصلاحات جاری ہیں اور اس منصوبے کے تحت کابینہ نے 350 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی تھی۔

پاکستان ریزز ریونیو پروگرام کے لیے عالمی بینک کے بیشتر اہداف پورے نہیں ہو سکے، اور 40 کروڑ ڈالر کے منصوبے کے تحت 18 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا ہدف مقرر تھا، تاہم پاکستان ایف بی آر میں اصلاحات کے لیے اب تک 4.7 ارب ڈالر کا مجموعی قرض لے چکا ہے۔ مزید 20 کروڑ ڈالر کے مساوی قرض لینے سے یہ حجم بڑھ کر 4.9 ارب ڈالر ہو جائے گا، جبکہ ایف بی آر پچھلے مسلسل 2 سال سے سالانہ ٹیکس ہدف پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔