سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن ڈرون حملے کے بعد بند

تقریباً 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں موجود تیل کے پیداواری مراکز کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔

September 15, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ریاض: سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم تیل پائپ لائن کو ڈرون حملے میں نقصان پہنچنے کے بعد عارضی طور پر بند کردیا گیا، جس کے باعث عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں موجود تیل کے پیداواری مراکز کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔

یہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کے راستے سے گریز کرتے ہوئے خام تیل مغربی ساحل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

سعودی وزارت توانائی کے مطابق ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کو ڈرون حملوں سے نقصان پہنچا، جبکہ حملوں کے نتیجے میں بعض افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے بعد مزید نقصان سے بچنے کے لیے پائپ لائن کی ترسیل عارضی طور پر روک دی گئی۔

سعودی حکام کے مطابق ڈرون حملے عراق کے جنوب مشرقی صوبے میسان سے کیے گئے۔ یہ علاقہ ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے اور ماضی میں یہاں ایران نواز مسلح گروہوں کی موجودگی بھی رپورٹ ہوتی رہی ہے۔

پائپ لائن کی بندش نے عالمی توانائی کی منڈی میں تشویش پیدا کردی ہے، کیونکہ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس راستے کی طویل بندش عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو متاثر کرسکتی ہے۔