امریکی مرکزی بینک نے شرح سود بڑھا دی
وفاقی شرح سود 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں پہنچ گئی ہے۔ یہ جولائی 2023 کے بعد امریکی شرح سود میں پہلا اضافہ ہے۔
امریکی مرکزی بینک نے شرح سود بڑھا دی
امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد وفاقی شرح سود 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں پہنچ گئی ہے۔ یہ جولائی 2023 کے بعد امریکی شرح سود میں پہلا اضافہ ہے۔
فیڈرل ریزرو کے مطابق امریکی معیشت میں سرگرمیاں مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ ملکی اخراجات میں بھی مضبوطی برقرار ہے۔ تاہم مہنگائی اب بھی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے زیادہ ہے، جس کے باعث قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنا فیڈ کی اہم ترجیح بن گیا ہے۔
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے بھی مہنگائی کے مسلسل بلند رہنے کو شرح سود میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مرکزی بینک اس وقت تک پالیسی کو سخت رکھنے پر توجہ دے گا جب تک مہنگائی 2 فیصد کے ہدف کی جانب واضح اور مناسب رفتار سے نہیں بڑھتی۔
مرکزی بینک کے تازہ تخمینوں میں رواں سال مہنگائی کی شرح پہلے کے اندازوں سے زیادہ رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جبکہ پالیسی سازوں کی اکثریت نے 2026 کے دوران مزید شرح سود میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
شرح سود میں اضافے کے بعد امریکی مالیاتی منڈیوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ سرمایہ کار اب مرکزی بینک کے آئندہ فیصلوں اور مہنگائی، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے تازہ اعداد و شمار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرح سود میں اضافے پر اختلاف کرتے ہوئے کم شرح سود کی حمایت کی ہے۔ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکی معیشت میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور شرح سود کو نمایاں طور پر کم ہونا چاہیے۔
فیڈرل ریزرو کا کہنا ہے کہ آئندہ شرح سود کے فیصلے مہنگائی، روزگار اور مجموعی معاشی صورتحال سے متعلق دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
مرکزی بینک کے اس فیصلے نے ایک طرف مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسی کو واضح کیا ہے تو دوسری جانب امریکی صدر اور مرکزی بینک کے درمیان شرح سود کے معاملے پر پائے جانے والے اختلافات بھی نمایاں ہوگئے ہیں۔