سندھ کابینہ کا گندم کاشت کاروں کیلئے 16 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان
اجلاس میں گندم کاشت کاروں کی معاونت سمیت زراعت، صحت، زمین کے ریکارڈ، کھیل اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق مختلف فیصلے کیے گئے۔
سندھ کابینہ کا گندم کاشت کاروں کیلئے 16 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان
کراچی: سندھ کابینہ نے گندم کاشت کاروں کے لیے تقریباً 16 ارب روپے کے امدادی پیکیج کی منظوری دے دی، جس سے صوبے بھر میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار کاشت کار مستفید ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں گندم کاشت کاروں کی معاونت سمیت زراعت، صحت، زمین کے ریکارڈ، کھیل اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق مختلف فیصلے کیے گئے۔
منظور کیے گئے پیکیج کے تحت 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے گندم کاشت کاروں کو کھاد کی خریداری کے لیے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ محکمہ خوراک کو گندم فراہم کرنے والے کاشت کاروں کے لیے اضافی سبسڈی بھی ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 2 ہزار روپے فی من کردی گئی ہے۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ گزشتہ خریداری سیزن کے دوران 56 ہزار 741 کاشت کاروں نے محکمہ خوراک کو 20 لاکھ 40 ہزار سے زائد من گندم فراہم کی۔ حکومت نے اہل کاشت کاروں کی دوبارہ رجسٹریشن اور نئے درخواست گزاروں کی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رجسٹریشن کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
حکام کے مطابق سبسڈی کی ادائیگیاں براہ راست مستحق کاشت کاروں کے بینظیر ہاری کارڈ اکاؤنٹس میں سندھ بینک کے ذریعے منتقل کی جائیں گی۔ مجموعی پیکیج پر تقریباً 14.9 ارب روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے جبکہ اضافی گندم خریداری مراعات شامل ہونے کے بعد رقم تقریباً 16 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے
اجلاس میں زمین کی ملکیت کی منتقلی کے لیے مٹیاری اور سکھر کے تین پائلٹ دیہہ میں بلاک چین پر مبنی ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی بھی منظوری دی گئی۔
صحت کے شعبے میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کراچی میں 13 منزلہ بلقیس و عبد الستار ایدھی میڈیکل ٹاور کی تعمیر کی منظوری دی گئی، جس میں 445 بستروں کی گنجائش ہوگی اور منصوبے کی لاگت 17 ملین ڈالر بتائی گئی ہے