یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں شدید جھڑپیں، 68 ہلاکتیں
دونوں جانب سے سامنے آنے والے ہلاکتوں کے اعداد و شمار فریقین کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں شدید جھڑپیں، 68 ہلاکتیں
ریاض: یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 68 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 23 حکومتی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ حوثی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں میں ان کے 40 جنگجو مارے گئے۔
دونوں جانب سے سامنے آنے والے ہلاکتوں کے اعداد و شمار فریقین کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
لڑائی کے دوران شہریوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کی زد میں آکر ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے، جبکہ حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا نے تعز میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کی کارروائی میں 3 بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق تازہ لڑائی کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کے باعث خطے میں اہم بحری راستوں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے سعودی عرب سے حملے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سعودی فضائی کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ حوثیوں نے ایک سعودی ایف 15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات خطے کی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، خصوصاً بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے سے عالمی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔