ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر شی جنپنگ کو ایران کی فوجی مدد بند کرنے کی سخت تنبیہ

اہم سفارتی کشیدگی، چینی اداروں کی جانب سے ایران کو ترسیل کا انکشاف، امریکہ کا سخت مؤقف۔

September 25, 2026 · اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنپنگ کی ملاقات کا ایک منظر۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنپنگ کی ملاقات کا ایک منظر۔

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹשורים نے چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات کے دوران ایران کو کسی بھی قسم کی چینی فوجی یا انٹیلی جنس مدد فراہم کرنے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سفیر برائے چین ڈیوڈ پرڈیو نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں امریکی مؤقف انتہائی دوٹوک انداز میں پیش کیا گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے جاری کردہ اور ایرانی کسٹمز کے ریکارڈ پر مبنی دستاویزات کے مطابق سال 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران چینی اداروں نے مبینہ طور پر ایران کی وزارت دفاع کو تقریباً 1,300 فضائی کھیپیں ارسال کی ہیں۔ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کھیپوں میں جی پی ایس آلات، الیکٹرک موٹرز، الیکٹرانک پرزے اور طیاروں کے انجن سے متعلق ایسے اجزا شامل تھے جنہیں ڈرونز اور میزائل گائیڈنس سسٹمز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے روز بھی چین سے ایک کھیپ تہران پہنچی تھی، جبکہ اس کے 2 روز بعد مزید درجن سے زائد کھیپیں تہران پہنچیں جن میں 60 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈرونز میں استعمال ہونے والے پرزے بھی شامل تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سنگین معاملہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران چینی حکام کے سامنے کئی بار اٹھایا جا चुका ہے۔

دوسری جانب چینی حکومت نے امریکی پابندیوں اور تہران کو عسکری نوعیت کی مدد فراہمی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ وہ دہرے استعمال کی اشیا کی برآمدات کو قانون کے مطابق منظم کرتا ہے اور خطے میں یک طرفہ امریکی پابندیوں کی مخالفت جاری رکھے گا۔