باجوڑ میں فائرنگ سے تاجر رہنما ڈرائیور سمیت جاں بحق
اسماعیل زرگر چند ماہ قبل ا ناوگئی بازار کے صدر منتخب ہوئے تھے
باجوڑ کے دوسرے بڑے تجارتی مرکز عنایت کلی بازار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ناوگئی بازار کے صدر اسماعیل زرگر اور ان کے ڈرائیور اجمل خان جاں بحق ہوگئے
پولیس کے مطابق اسماعیل زرگر اور اجمل خان پر عنایت کلی بازار میں فائرنگ کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال خار منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد مبینہ ٹارگٹ کلرز موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسماعیل زرگر چند ماہ قبل اپنے مدِمقابل امیدوار کو شکست دے کر بھاری اکثریت سے ناوگئی بازار کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ 13 بہنوں کے اکلوتے بھائی، تین ماؤں کے اکلوتے بیٹے اور آٹھ بچوں کے والد اور واحد کفیل تھے۔
واقعے کے خلاف احتجاجاً ناوگئی بازار کو بند کیا گیا ، علاقے میں واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ شام دونوں مقتولین کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے ناوگئی دربنوں (شڑہ) میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مقامی لوگوں کے مطابق عنایت کلی بازار میں گزشتہ کئی سال سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث تاجر برادری اور عوام میں مسلسل خوف و تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری اور بازاروں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے