فجی کی عدالت میں 40 کلو کوکین کی جگہ آٹا رکھ دیا گیا

واقعے کے بعد 6 افراد تحقیقات کی زد میں،عدالت کے دیگر شواہد کی بھی جانچ شروع

September 30, 2026 · چشم حیرت

فائل فوٹو

فجی کے دارالحکومت سووا کی ہائی کورٹ سے بڑے منشیات مقدمے میں بطور ثبوت محفوظ تقریباً 40 کلوگرام کوکین چوری ہوگئی، جس میں سے بیشتر کو آٹے سے تبدیل کیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی بحرالکاہل کے سیاحتی ملک میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

چوری ہونے والی کوکین کی مالیت 30 ملین فجی ڈالر (13.3 ملین امریکی ڈالر) تھی۔ یہ منشیات 2019 میں فجی-کینیڈین شہری جوشوا رحمان کے خلاف مقدمے میں ضبط کی گئی تھیں، جنہیں سرکاری ریکارڈ کے مطابق غیر قانونی قبضے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

ضبط شدہ منشیات اپیل کی سماعت کے دوران سووا ہائی کورٹ میں محفوظ رہیں، تاہم 15 ستمبر کو معائنے کے دوران حکام نے دریافت کیا کہ کوکین کی 39 بارز میں سے 7 غائب ہیں۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ باقی تمام کوکین بھی اصل نہیں تھیں اور ضبط شدہ اصل کوکین کا ایک بھی حصہ باقی نہیں بچا تھا۔

پولیس نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ باقی منشیات کے نمونوں کے فرانزک ٹیسٹ منفی آئے۔ پولیس کے مطابق تمام شواہد میں ردوبدل کیا گیا اور تحقیقات کا مرکز ہائی کورٹ رجسٹری میں شواہد کی نگرانی کے براہ راست ذمہ دار افراد ہیں۔

پولیس کمشنر روسیئٹ تودراوو نے بدھ کو بتایا کہ کوکین مارچ 2021 میں ہائی کورٹ کے والٹ میں رکھی گئی تھی، تاہم یہ واضح نہیں کہ چوری کب ہوئی۔ 2019 میں ہونے والے سابقہ ٹیسٹ میں شواہد کے کوکین ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

تودراوو کے مطابق پولیس نے عدالتی محکمے سے تعلق رکھنے والے 6 افراد کو تحقیقات میں دلچسپی کے حامل افراد کے طور پر شناخت کیا ہے، جنہیں والٹ تک رسائی حاصل تھی، جبکہ ان میں سے ایک شخص اس وقت ملک سے باہر ہے۔

پولیس اب عدالت میں موجود دیگر تمام شواہد، جن میں ضبط شدہ نقد رقم بھی شامل ہے، کی دوبارہ جانچ کر رہی ہے۔

کوکین کی چوری نے فجی کے عدالتی نظام کی سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں اور عوام و قانون سازوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔

اپوزیشن رہنما جون اسوماتے نے پارلیمنٹ میں کہا کہ کوکین کو آٹے سے تبدیل کرنا ذمہ دار افراد کے لیے افسوسناک صورتحال ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب کیسے معلوم ہوگا کہ دیگر تمام شواہد میں وہی چیز موجود ہے جو ریکارڈ میں درج ہے۔

وزیر انصاف سیرومی توراگا نے واقعے پر مایوسی اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام ہائی کورٹ کی سکیورٹی بہتر بنانے اور موجودہ طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

فجی اپنے دوستانہ ماحول، سفید ریت کے ساحلوں اور مرجانی چٹانوں کے لیے مشہور ہے، تاہم ملک کئی برس سے منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

فجی امریکہ سے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ایشیا کے بعض حصوں کی منافع بخش منڈیوں تک منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ مقام بن چکا ہے۔ کارٹلز کی جانب سے جزائر پر اسمگل کی جانے والی میتھم فیٹامین کے بڑے ذخیرے نے بڑے پیمانے پر نشے کے بحران کو جنم دیا ہے، جسے فجی میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا ہے، اور ملک نے حال ہی میں اسے قومی ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔

وزیر انصاف توراگا نے کہا کہ کوکین کی گمشدگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک سرحد پار جرائم پر بات کر رہا ہے، اور یہ اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اس معاملے سے محفوظ نہیں، تحقیقات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور قصوروار پائے جانے والوں کو جواب دہ بنایا جائے گا۔

یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ رواں سال مارچ میں ایک الگ مقدمے سے متعلق ضبط شدہ مزید 12 کلوگرام کوکین بھی غائب پائی گئی تھی۔

بدھ کو نیوز کانفرنس میں مقامی صحافیوں نے پولیس کمشنر سے سوال کیا کہ مارچ میں پہلے واقعے کے بعد سکیورٹی کیوں نہیں بڑھائی گئی اور کیا ایسا کرنے سے منشیات کی دوسری چوری روکی جا سکتی تھی۔

پولیس کمشنر تودراوو نے کہا کہ حکومت اور وہ خود اس معاملے پر فکرمند ہیں اور اسی لیے تحقیقات جلد از جلد مکمل کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔