محمود اچکزئی کا اسپیکر چیمبر جانے سے انکار،مذاکرات کیلئے نیا وفد تشکیل
حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم ملاقات کسی غیر جانب دار مقام پر ہونی چاہیے۔محمود خان اچکزئی
محمود اچکزئی کا اسپیکر چیمبر جانے سے انکار،مذاکرات کیلئے نیا وفد تشکیل
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے اسپیکر کے چیمبر میں حکومت سے مذاکرات کے لیے جانے سے انکار کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے مذاکراتی عمل کے لیے نیا وفد تشکیل دے دیا ہے۔
محمود خان اچکزئی کا مؤقف ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم ملاقات کسی غیر جانب دار مقام پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے اسپیکر کے دفتر یا وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات سے بھی انکار کیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن اتحاد نے حکومت سے مذاکرات کی پیشکش قبول کرلی ہے اور آج قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دفتر میں حکومتی وفد سے ملاقات طے ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق محمود اچکزئی کی نمائندگی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کریں گے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان، عامر ڈوگر، حلیم عادل شیخ اور دیگر رہنما مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا وفد حکومتی ٹیم کے ساتھ سیاسی صورتحال اور دیگر اہم معاملات پر بات چیت کرے گا۔ مذاکراتی وفد کے ناموں کی پارٹی کی سیاسی اور کور کمیٹی کی جانب سے توثیق کی گئی ہے۔
حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی مذاکرات کے لیے مشترکہ وفد تشکیل دیا ہے، جس میں محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔