ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار فروخت کرنے کا انکشاف، والدین سمیت 7 ملزمان گرفتار
بھارت کے علاقے اورنگ آباد سے بیچے گئے بچے کو حیدرآباد سے بازیاب کرا لیا گیا، جعلی ڈاکٹر بھی ملوث
ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار فروخت کرنے کا انکشاف، والدین سمیت 7 ملزمان گرفتار
بھارت کے علاقے اورنگ آباد میں ایک ماہ کے شیر خوار بچے کو متعدد بار خریدنے اور فروخت کرنے کا ایک انتہائی شرمناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں اس مکروہ دھندے میں ملوث بچے کے والدین سمیت 7 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس افسوسناک واقعے کا آغاز مکندواڑی کے علاقے سے ہوا، جہاں نومولود کے والدین نے اپنے ہی ایک ماہ کے بچے کو مبینہ طور پر سیما ریشوال نامی ایک درمیانی خاتون کے حوالے کیا اور اس کے عوض 1 لاکھ 20 ہزار روپے حاصل کیے۔
تفتیش کاروں کے مطابق غریب والدین نے اس مکروہ سودے سے ملنے والی رقم سے 2 مہنگے موبائل فون اور سونے کی ایک چین خریدی۔ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے پر پولیس کو معلوم ہوا کہ والدین سے بچے کو حاصل کرنے کے بعد اس کا مزید کئی مرتبہ سودا کیا گیا اور ہر اگلے مرحلے پر بچے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق سیما ریشوال نے بچے کو پڈے گاؤں کی رہائشی سنگیتا آوہاڑ کے ہاتھوں 2 لاکھ 70 ہزار روپے میں فروخت کیا۔
اس کے بعد سنگیتا آوہاڑ بچے کو ناندیڑ لے گئی، جہاں اسے 3 لاکھ 50 ہزار روپے کے عوض سریش گنتوکا کے سپرد کیا گیا جسے پولیس نے جعلی ڈاکٹر قرار دیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچے کی خرید و فروخت کا یہ سلسلہ یہیں نہیں روکا گیا، بلکہ سریش گنتوکا نے بعد ازاں بچے کو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی اپنے ایک رشتہ دار اوما کھٹکم کے حوالے کر دیا۔ اس معاملے میں بھی بچے کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار روپے طے کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شواہد کی بنیاد پر اس گھناؤنے چکر کا سراغ لگایا اور بچے کو حیدرآباد دکن سے بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ اس واقعے میں ملوث بچے کے والدین اور دیگر معاونین سمیت کل 7 افراد کو حراست میں لے کر ان سے سخت تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس اس اہم زاویے پر بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ مہاراشٹر اور تلنگانہ میں سرگرم شیر خوار بچوں کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ میں ملوث کسی بڑے بین الریاستی نیٹ ورک کا حصہ تو نہیں ہے۔