رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

معاشی آؤٹ لک جاری، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ، افراط زر کی شرح 10.2 فیصد ریکارڈ ہوئی۔

October 2, 2026 · اہم خبریں
وفاقی وزارت خزانہ اور ادارہ شماریات کی جانب سے معاشی اشاریوں پر بریفنگ کے دوران کی ایک جھلک۔

وفاقی وزارت خزانہ اور ادارہ شماریات کی جانب سے معاشی اشاریوں پر بریفنگ کے دوران کی ایک جھلک۔

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزارت خزانہ اور ادارہ شماریات پاکستان نے ملکی معیشت کی کارکردگی سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار اور ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ادارہ شماریات پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں پاکستان کا ماہانہ تجارتی خسارہ ماہانہ بنیادوں پر 8 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 6 فیصد بڑھ گیا، جس کے بعد ماہانہ تجارتی خسارہ 3 ارب 56 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ ستمبر کے دوران درآمدی بل ماہانہ بنیادوں پر 12 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد اضافے کے ساتھ 6 ارب 50 کروڑ ڈالر رہا، جبکہ برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 16 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 18 فیصد اضافہ ہوا اور برآمدات 2 ارب 94 کروڑ ڈالر رہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں مجموعی تجارتی خسارہ 10 ارب 79 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ اس عرصے کے دوران مجموعی درآمدی بل 13 فیصد اضافے سے 19 ارب 21 کروڑ ڈالر جبکہ برآمدات 11 فیصد اضافے سے 8 ارب 42 کروڑ ڈالر رہیں۔

دوسری جانب، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اقتصادی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال کے ابتدائی ماہ جولائی تا اگست ترسیلات زر میں 14.7 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ترسیلات زر 7.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اسی طرح جولائی تا اگست براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 24 فیصد اضافے سے 494.5 ملین ڈالر رہی، جبکہ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 80.2 فیصد اضافے کے بعد 562.2 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کے کُل زرمبادلہ کے ذخائر 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر اور تجارتی بینکوں کے ذخائر 5.4 ارب ڈالر ہیں۔ اس دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 3.7 فیصد اضافے سے 1,722.4 ارب روپے رہیں، جبکہ زرعی قرضوں کا حجم 16.4 فیصد اضافے سے 271.9 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

مہنگائی کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جولائی تا اگست مہنگائی کی اوسط شرح 10.2 فیصد رہی، جبکہ اگست میں افراطِ زر کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ مزید برآں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ستمبر کے اختتام پر 169,600 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔