قومی بچت کے 111 مراکز غیر مؤثر اور مالی طور پر غیر پائیدار قرار
اہم فیصلہ، ناقابلِ عمل مراکز بند کرنے کی تجویز، فوری عملی منصوبہ طلب کر لیا گیا
قومی بچت کے غیر مؤثر مراکز کے حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن اور مالیاتی اعداد و شمار کا منظر
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر میں مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور اخراجات پر قابو پانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے قومی بچت کے 111 مراکز کو غیر مؤثر اور مالی طور پر غیر پائیدار قرار دے دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ناقابلِ عمل مراکز کو مکمل طور پر بند کر کے قریبی فعال مراکز میں ضم کرنے کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق قومی بچت مراکز کے لیے فی 10 لاکھ روپے کے ڈپازٹس پر آپریشنل اخراجات کا معیار 2500 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ان 111 غیر مؤثر مراکز کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے اخراجات میں کمی لائیں یا پھر کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر عملی منصوبہ تیار کریں۔
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ مراکز اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ڈپازٹس میں اضافے کا لائحہ عمل مرتب کر سکتے ہیں، جبکہ غیر مؤثر مراکز کو زیادہ کاروباری اور بہتر سرمایہ کاری کی صلاحیت والے علاقوں میں منتقل کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ منتقلی کی صورت میں علاقائی ڈائریکٹوریٹس سے 15 روز کے اندر تفصیلی کاروباری اور منتقلی کا پلان طلب کیا گیا ہے۔
حکمنامے کے تحت کسی بھی مرکز کے بند ہونے کی صورت میں وہاں تعینات تمام ملازمین کی مکمل تفصیلات، ان کی رہائش اور ترجیحی تعیناتی کی جگہ کی تفصیلات بھی فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ عملے کی بروقت اور مؤثر ایڈجسٹمنٹ کو یقینی بنایا جا سکےـ