پاکستان اور افغان وفود ماسکو فارمیٹ اجلاس میں ایک میز پر بیٹھیں گے

ماسکو فارمیٹ اجلاس، دونوں ممالک کے وفود شریک ہوں گے، دوطرفہ ملاقات طے نہیں ہوئی۔

October 5, 2026 · اہم خبریں
ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں مشاورتی اجلاس کا منظر جس میں پاکستان اور افغانستان کے وفود شریک ہوں گے۔

ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں مشاورتی اجلاس کا منظر جس میں پاکستان اور افغانستان کے وفود شریک ہوں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے وفود 5 اکتوبر کو ماسکو میں منعقد ہونے والے ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں مشاورتی اجلاس میں ایک ہی میز پر آمنے سامنے ہوں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب دہشت گردی اور سرحد پار سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسلام آباد اور افغان طالبان حکومت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔

افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق ماسکو فارمیٹ کے اس اہم اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ کے افغانستان، ایران اور ترکیہ کے لیے ڈائریکٹر جنرل نعیم اقبال چیمہ، افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی اور روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقائی مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال نمایاں طور پر زیر بحث آنے کا قوی امکان ہے۔

دوسری جانب افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اجلاس میں طالبان وفد کی قیادت کریں گے۔ تاہم، محمد صادق اور امیر خان متقی کے درمیان تاحال کسی بھی باضابطہ دوطرفہ ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا جا سکا۔ دوطرفہ ملاقات کے امکان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں طالبان کے ایک ذمے دار عہدیدار نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ انہوں نے کسی بھی ملاقات کی باضابطہ درخواست نہیں دی ہے۔

ماسکو فارمیٹ کا یہ اجلاس پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سفارتی اور سکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ دونوں فریقین کے درمیان الگ سے کوئی دوطرفہ ملاقات طے نہیں ہے، تاہم ایک ہی بین الاقوامی فورم پر دونوں ممالک کے وفود کی شرکت سے علاقائی سکیورٹی، بارڈر منیجمنٹ اور باہمی تعلقات سے جڑے اہم معاملات پر خیالات کا تبادلہ کرنے کا موقع میسر آئے گا۔