ایرانی ریال تاریخ کی کم ترین سطح پر، ایک ڈالر 26 لاکھ 88 ہزار ریال کا ہوگیا
شدید معاشی دباؤ، مرکزی بینک کا 2 ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان، مہنگائی 70 فیصد سے تجاوز کر گئیـ
ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں کمی اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ایک فائل فوٹو۔
تہران میں ایران کی کرنسی ریال کی قدر میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریال ایک نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ آزاد کرنسی مارکیٹ اور خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایک امریکی ڈالر تقریباً 26 لاکھ 88 ہزار ایرانی ریال میں فروخت ہوا جبکہ بعض کرنسی ٹریکنگ پلیٹ فارمز پر ڈالر کی قیمت 26 لاکھ 95 ہزار ریال تک بھی ریکارڈ کی گئی۔
دستاویزات اور مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی ریال اپنی قدر کا نصف سے زیادہ حصہ کھو چکا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی شرح 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جس کے باعث عام شہریوں کے لیے روزمرہ اشیا، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کے اخراجات پورے کرنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ معاشی بحران اور بے یقینی کے اس ماحول میں شہری اپنی بچت کو محفوظ بنانے کے لیے سونے اور غیر ملکی کرنسیوں کا رخ کر رہے ہیں۔
کرنسی مارکیٹ میں جاری شدید دباؤ اور بے یقینی پر قابو پانے کے لیے ایرانی مرکزی بینک نے مارکیٹ میں 2 ارب ڈالر تک فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری بینکوں کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کی فروخت بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ طلب کو پورا کیا جا سکے اور ریال پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
ایرانی مرکزی بینک کے امور زرمبادلہ کے مشیر مہدی دارابی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے ایرانی معیشت کے ممکنہ انہدام کے بارے میں منفی پیش گوئیاں مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ گراوٹ عارضی ہے اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں، تیل کی برآمدات پر دباؤ، بحری ناکہ بندی اور زرمبادلہ کی قلت نے ایران کی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔