یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا
اہم پیش رفت، حکومتی کونسل کے سربراہ کا اعلان، 1 لاکھ سے زائد اہلکار متحرک ہوں گے۔
یمنی دارالحکومت صنعا اور دیگر شہروں میں حوثی ملیشیا کے خلاف جاری فضائی حملوں اور فوجی آپریشن کا منظر
یمن کی سرکاری قیادت نے حوثی ملیشیا کے قبضے سے ملک کے باقی ماندہ علاقے واگزار کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر بھرپور فوجی کارروائیوں کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں ملک کی تمام اراضی کو آزاد کرانے اور ریاست کی رٹ بحال کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی عسکری معاونت اور اتحادی افواج کے تعاون سے یمنی مسلح افواج نے دارالحکومت صنعا، تعز اور صعدہ سمیت کئی محاذوں پر حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ایک بڑے عسکری آپریشن کی تیاری کر رہا ہے جس میں 1 لاکھ سے زائد یمنی اہلکاروں کے متحرک کیے جانے کا امکان ہے۔ اسٹریٹجک نوعیت کے اس منصوبے کے تحت سعودی فضائیہ کی مدد سے یمنی فورسز زمینی محاذ سنبھالیں گی۔
دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کے لیے امریکا کی جانب سے انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ پاکستان اور ترکی سمیت دیگر حشراتی ممالک سعودی عرب کو دفاعی سازوسامان اور تکنیکی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ ادھر یمنی عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی شدید جھڑپوں اور فضائی حملوں میں 1,540 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جبکہ سعودی اتحادی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل ناکام بنا دیے ہیں۔