جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس، عدالت کا عمران خان کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم

اہم پیش رفت، متعدد رہنما اشتہاری قرار، سماعت 5 نومبر تک ملتوی ہوگی۔

October 5, 2026 · اہم خبریں
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس کی سماعت کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت کا منظر۔

جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس کی سماعت کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت کا منظر۔

 

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں بانی تحریک انصاف کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اے ٹی سی اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے بانی پی ٹی آئی اور دیگر کے خلاف درج مقدمے کی سماعت کی۔ دستیاب عدالتی دستاویزات اور خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے سابق وفاقی وزراء فرح حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم اور پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی حسن خان نیازی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف یہ مقدمہ تھانہ رمنا میں درج کیا گیا تھا، جبکہ عدالت نے کیس کی مزید کارروائی 5 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

دوسری جانب سیاسی صورتحال کے تناظر میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات مکمل طور پر آئینی اور ملکی سلامتی کے مفاد میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مطالبات میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں کی مذمت، صوبے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ، افغانستان سے متعلق خارجہ پالیسی پر عمل درآمد، افغان مہاجرین کی واپسی، کے پی پولیس ایکٹ پر نظرثانی، افواج کے ساتھ تعاون اور نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد شامل تھا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ فریقین اگر لچک کا مظاہرہ کریں تو مذاکرات کا سلسلہ اب بھی بحال ہو سکتا ہے کیونکہ دہشتگردی کا معاملہ طویل مدتی ہے اور اسے فوری طور پر حل کرنا دشوار ہے۔