پی ایم ڈی سی کا غیر ملکی اداروں کے لیے ایم ڈی کیٹ ختم کرنے کا فیصلہ
اہم اقدام، سندھ میں امتحان کی تحقیقات، وزارت نے 15 روز میں رپورٹ مانگ لی۔
پی ایم ڈی سی کا غیر ملکی اداروں کے لیے ایم ڈی کیٹ ختم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے غیر ملکی تعلیمی اداروں میں داخلے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کی لازمی شرط ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ کونسل کی جانب سے جاری کردہ پبلک نوٹس کے مطابق غیر ملکی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے اب پاکستانی طلبا کو ایم ڈی کیٹ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور امتحان پاس کرنا لازمی نہیں ہوگا۔
علاوہ ازیں، پی ایم ڈی سی نے اپنے سابقہ فیصلے کو واپس لیتے ہوئے بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) پروگرام کا دورانیہ 4 سال ہی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ صحت سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ ڈینٹل تعلیم کے دورانیے میں توسیع سے متعلق گزشتہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے جس پر کمیٹی نے چار سالہ بی ڈی ایس پروگرام کی توثیق کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے انعقاد اور نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ وزارت صحت کی جانب سے صدر پی ایم ڈی سی کو ارسال کردہ مراسلے میں سینٹر وائز امیدواروں کی تعداد، حاصل کردہ نمبرز، پاس ریٹ اور ہائی اسکورز کا تفصیلی تجزیہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزارت نے ہدایت کی ہے کہ امتحانی مراکز کے نتائج میں غیر معمولی فرق، حاضری شیٹس، سیٹنگ پلان، سینٹر ریکارڈ اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جائے۔
دستاویزات کے مطابق وزارت صحت نے پی ایم ڈی سی کو امویجیلیشن انتظامات، امیدوار کی جگہ دوسرے شخص کے امتحان میں بیٹھنے اور پیپر لیک ہونے کے الزامات کی جامع تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ طریقہ کار کی خلاف ورزی، تکنیکی خرابی اور انتظامی غفلت کا جائزہ لے کر ذمے داری کا تعین کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جبکہ تمام انکوائری مکمل کرکے 15 روز کے اندر رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
ادھر، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 2020ء سے ایم ڈی کیٹ کے نظام میں خرابیوں کا سلسلہ جاری ہے اور کراچی کے طلبہ کے ساتھ شدید ناانصافیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امتحانی فیس میں اضافے کے ساتھ ساتھ کراچی کے 12 ہزار طلبہ کے لیے صرف 2 امتحانی مراکز بنائے گئے جہاں طلبہ کو شدید گرمی میں کھلے میدانوں میں امتحان دینا پڑا۔