خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے تک ریاست اور پی ٹی آئی میں مذاکرات معطل

سخت ڈیڈ لاک، گورنر راج کی دھمکی، پی ٹی آئی کا مؤقف مسترد

October 5, 2026 · اہم خبریں
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جاری بیانات کے بعد سیاسی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جاری بیانات کے بعد سیاسی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

اسلام آباد اور پشاور کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اس وقت انتہائی شدت آ گئی جب وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات بغیر کسی خاطر خواہ پیش رفت کے ختم ہو گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنسز اور بیانات میں واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے اور اگر صوبائی حکومت نے ریاست کا ساتھ نہ دیا تو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سماء ٹی وی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو انسداد دہشتگردی کے لیے 700 ارب روپے ملے ہیں، اس کے باوجود صوبائی حکومت دہشتگردوں کو تحفظ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا افغانستان کے ساتھ، کیونکہ ان کی پالیسی دہشتگردوں کو کور دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملے پر مذاکرات ناکام نہیں ہوئے بلکہ اصل مسئلہ دہشتگردی اور معصوم شہریوں کی شہادتوں کا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کی ناکامی پر اپنا جوابی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مذاکرات کی ناکامی کی تمام ذمہ داری اپوزیشن پر عائد کرنے سے گریز کرے۔ پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات میں بنیادی ڈیڈ لاک بانی پی ٹی آئی عمران خان تک فوری رسائی کے معاملے پر رہا، کیونکہ قومی اور سیاسی معاملات پر فیصلہ سازی کے لیے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ناگزیر ہے۔ پارٹی اعلامیے کے مطابق حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے اور ان کے علاج کے لیے مناسب میڈیکل بورڈ بنانے کا مطالبہ بھی ت حال تسلیم نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا دھرنا اور احتجاج اب طویل ہوتا جا رہا ہے اور اسلام آباد کو بند رکھنے کے سیاسی بحران کو قومی مفاد سے الگ رکھنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائے تاکہ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جا سکے، لیکن حکومتی غیر لچکدار رویے کی وجہ سے فی الحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔