ملکی ترقیاتی اخراجات کی رپورٹ جاری، سرکاری قرضوں میں تاریخی اضافہ اور کراچی میں اربوں روپے کا کسٹمز فراڈ بے نقاب
اہم مالیاتی انکشافات، وزارتِ خزانہ اور کسٹمز کی رپورٹس سامنے آئیں، تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا
اقتصادی رپورٹس اور کسٹمز کارروائی سے متعلق ایک عکاسی تصویر
ملکی معیشت اور مالیات سے جڑے مختلف امور پر اہم رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں ترقیاتی اخراجات، سرکاری قرضوں میں ہوشربا اضافہ اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی اسمگلنگ اور مالی فراڈ کے انکشافات شامل ہیں۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پہلے 3 ماہ کے دوران ترقیاتی اخراجات کی مد میں 61 ارب 31 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ پی ایس ڈی پی 2026-27 کا مجموعی حجم ایک ہزار ارب روپے تھا۔ وفاقی وزارتوں کیلئے مختص 682 ارب 48 کروڑ روپے میں سے پہلی سہ ماہی میں 43 ارب 85 کروڑ روپے جاری ہوئے جبکہ کارپوریشنز کیلئے مختص 312 ارب 51 کروڑ روپے میں سے 17 ارب 46 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترقیاتی منصوبوں پر ستمبر تک 9 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہوئے، این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے منصوبوں پر 8 ارب 17 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ پلاننگ ڈویژن کے منصوبوں پر ستمبر تک ایک ارب 56 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے جبکہ ریلوے ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں پر 2 ارب 34 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ آبی وسائل کے منصوبوں کیلئے 103 ارب 86 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے ستمبر تک 13 ارب 28 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
دوسری جانب وزارتِ خزانہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سرکاری قرضوں میں گزشتہ 10 سال کے دوران 340 فیصد کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد سرکاری قرضوں کا حجم 86 ہزار 700 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جون 2016 تک سرکاری قرضے 19 ہزار 700 ارب روپے تھے جو بڑھتے بڑھتے اس سطح پر پہنچے ہیں۔
ادھر کراچی میں کسٹمز حکام نے ایک بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش کرتے ہوئے جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 26 کروڑ روپے کے راؤٹرز درآمد کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ کسٹمز تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دو کمپنیوں کو مبینہ جعلی اور پیپر کمپنیاں قرار دیتے ہوئے انڈرانوائسنگ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کسٹمز رپورٹ کے مطابق مسلم سنز انٹرپرائز اور موسانی سنڈیکیٹ کے نام سے 71 ہزار 815 انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے گئے جو پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر لائے گئے تھے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کمپنیوں کی مالی حیثیت اور اربوں روپے کی درآمدات میں بڑے فرق کی وجہ سے خفیہ بینیفیشل اونرز کی جانب سے فنڈنگ کا شبہ پیدا ہوتا ہے، لہٰذا اس معاملے پر کسٹمز، ان لینڈ ریونیو اور ایف آئی اے پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔