آئی فون 18 پرو کی رنگت مدھم پڑنے اور پینٹ اترنے کی شکایات سامنے آئیں
نئے ماڈلز میں نقائص، کیمرہ لینز کے گرد رنگ اڑنے لگا، صارفین تشویش میں مبتلا
آئی فون 18 پرو کا رنگ پھیکا پڑنے اور ڈس کلریشن کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے نئے آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کے خریداروں کو ایک نئی پریشانی نے گھیر لیا ہے، جس کے سبب صارفین شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ مہنگے ترین آئی فون 18 پرو سیریز کے بعض صارفین کی جانب سے فون کے رنگ کے پھیکا پڑنے اور ڈس کلریشن کی شکایات سامنے آرہی ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئے آئی فون کی پینٹ کوٹنگ کے معیار سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق متعدد صارفین نے ریڈٹ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر آئی فون 18 پرو کے برگنڈی رنگ کے ایسے یونٹس کی تصاویر شیئر کی ہیں جن کا رنگ وقت گزرنے کے ساتھ مدھم پڑتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ بعض صارفین نے بلیک رنگ کے آئی فونز میں بھی اسی نوعیت کی تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رنگ میں تبدیلی کا آغاز مبینہ طور پر فون کے کیمرہ لینز کے اردگرد کے حصے سے ہوتا ہے اور بعد ازاں یہ تبدیلی باڈی کے دیگر حصوں تک پھیل جاتی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی گرد، چکنائی یا کسی ظاہری نقصان کی وجہ سے نہیں ہوئی، کیونکہ فون کو باقاعدگی سے صاف کرنے کے باوجود رنگ پہلے جیسا نہیں ہوتا۔ ابھی تک اس تبدیلی کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکتی ہے، تاہم بعض صارفین کا خیال ہے کہ فون کو زیادہ دیر تک دھوپ یا الٹرا وائلٹ روشنی میں رکھنے سے پینٹ متاثر ہوسکتا ہے، جبکہ ایک اور صارف نے امکان ظاہر کیا ہے کہ کیمروں کے استعمال کے دوران پیدا ہونے والی حرارت شاید ان کے اردگرد کے حصے کی رنگت تبدیل کرنے کا سبب بن رہی ہو۔
واضح رہے کہ یہ صورتحال گزشتہ سال آئی فون 17 پرو اور آئی فون 17 پرو میکس کے بعض صارفین کی شکایات سے بھی مماثلت رکھتی ہے۔ گزشتہ برس بھی فون متعارف ہونے کے چند ہفتوں بعد صارفین نے کاسمیٹک اورنج اور ڈیپ بلیو رنگ میں غیر معمولی ڈس کلریشن کی شکایات کی تھیں، جن میں سے کچھ متاثرہ فونز کو کمپنی کی جانب سے تبدیل بھی کیا گیا تھا۔
آئی فون 18 پرو کے اس مبینہ معاملے پر ایپل نے اب تک باضابطہ طور پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی، اس لیے یہ بھی واضح نہیں کہ کمپنی متاثرہ فونز کے لیے کوئی حل یا متبادل فراہم کرے گی یا نہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین اور صارفین اب اس حوالے سے ایپل کے باضابطہ لائحہ عمل کا انتظار کر رہے ہیں۔