پاکستان اور آئی ایم ایف میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے

ان رقوم کے اجرا کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم 5 ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

October 8, 2026 · اہم خبریں, قومی
پاکستان اور آئی ایم ایف میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے

پاکستان اور آئی ایم ایف میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان دو مختلف پروگراموں کے تحت ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کے اسٹاف لیول معاہدے پر اتفاق ہوگیا۔

معاہدے کے تحت پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے چوتھے جائزے کی تکمیل پر ایک ارب ڈالر جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 21 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ ان رقوم کے اجرا کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم 5 ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق مشکل عالمی اور علاقائی حالات کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام برقرار رکھنے میں پیش رفت کی ہے۔ 2026 کے پہلے 9 ماہ کے دوران معاشی شرح نمو 4 فیصد رہی جبکہ پورے سال کے لیے شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

فنڈ کے مطابق مئی میں بلند سطح پر پہنچنے کے بعد ستمبر میں مہنگائی کم ہوکر 10.3 فیصد پر آگئی۔ ترسیلات زر میں نمایاں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ بھی متوازن رہا، جبکہ ستمبر کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔

آئی ایم ایف نے خود مختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی دوبارہ رسائی کو معاشی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت قرار دیا۔ تاہم جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی حالات اور تجارتی رکاوٹوں کو معیشت کے لیے اہم خطرات قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے مالی سال 2027 کے بجٹ میں جی ڈی پی کے 2 فیصد بنیادی پرائمری سرپلس کا ہدف برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ فنڈ نے ٹیکس نظام کو مزید آسان بنانے اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی بھی سفارش کی۔

ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ، آڈٹ اور تھرڈ پارٹی ڈیٹا کے استعمال میں اضافے پر زور دیا گیا ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے مختص اخراجات بڑھانے کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے کم آمدنی والے طبقات کے لیے نقد امداد میں اضافے کی تجویز دی، جبکہ وسیع پیمانے پر دی جانے والی ایندھن سبسڈی ختم کرنے پر بھی زور دیا۔ فنڈ کے مطابق مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں امداد صرف مستحق اور کمزور طبقات تک محدود ہونی چاہیے۔

اسٹیٹ بینک کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مناسب طور پر سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے، روپے کی شرح تبادلہ میں لچک رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ، گردشی قرضے پر قابو پانے، بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت اور گیس کے نقصانات کم کرنے کو بھی اہم اصلاحات میں شامل کیا گیا ہے۔

فنڈ نے نجکاری کے عمل، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور شفافیت بہتر بنانے، کاروباری مسابقت بڑھانے، تجارتی و ریگولیٹری رکاوٹیں کم کرنے اور بدعنوانی کے خلاف ادارہ جاتی اقدامات پر بھی زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے، تاہم مہنگائی، توانائی کی قیمتوں، قرضوں اور عالمی و علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باعث معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے۔