قومی ادارہ امراض قلب میں مورفین کے 3 ہزار سے زائد انجکشن زائدالمیعاد ہوگئے
سخت ضابطے، اسپتال انتظامیہ نے نقصان کی تردید کردی، نئے انجیکشنز جلد ملیں گے
سرائے مغل:غلط انجیکشن سے 10 سالہ بچی جاں بحق،نجی کلینک سیل
کراچی کے قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) میں درد کش دوا مورفین کے 3 ہزار 191 انجکشن استعمال نہ ہونے کے باعث زائدالمیعاد ہوگئے ہیں۔
دستاویزی شواہد اور ریکارڈ کے مطابق اسپتال میں 2023 کے دوران مورفین کے 6 ہزار انجکشن خریدے گئے تھے، جن میں سے اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 کے دوران 2 ہزار 809 انجکشن استعمال کیے گئے، جبکہ بقیہ 53 فیصد یعنی 3 ہزار 191 انجکشن زائدالمیعاد قرار پائے۔
دستاویزات کے مطابق فارماسسٹ طلحہ محبوب خان نے 24 دسمبر 2025 کو اسسٹنٹ منیجر فارمیسی سروسز صائمہ سلیم کو لکھے گئے خط میں اس امر کی نشان دہی کی تھی کہ اسپتال کی نارکوٹکس کیبنٹ میں موجود ان انجکشنز کی میعاد ختم ہونے میں محض چند روز باقی رہ گئے تھے، تاہم اتنی بڑی مقدار میں اسٹاک استعمال نہیں ہوسکا۔ مورفین کو سرطان کے شدید درد میں مبتلا مریضوں، بالخصوص بچوں اور حادثاتی چوٹوں کے موقع پر استعمال کیا جانے والا انتہائی طاقتور اور کنٹرول شدہ مرکب مانا جاتا ہے۔
اسپتال کے ترجمان عبدالنصیر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر نے اس معاملے پر مؤقف اختیار کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو کسی قسم کے مالی نقصان پہنچنے کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مورفین ایک درآمدی اور سختی سے کنٹرول کی جانے والی نشہ آور دوا ہے، جس کی خریداری، ترسیل اور واپسی کے قانونی ضوابط انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ڈرگ انسپکٹر کے معائنہ، تصدیق اور تمام قانونی مراحل کی تکمیل کے بعد متعلقہ فراہم کنندہ کمپنی یہ زائدالمیعاد انجیکشنز واپس لے کر بغیر کسی اضافی قیمت کے نئے انجیکشنز فراہم کرے گی، جس سے قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔ اسپتال میں مورفین کے متبادل کے طور پر دیگر درد کش ادویات کا استعمال جاری رکھا گیا ہے تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔