ضبط شدہ سونے کی واپسی کے بجائے رقم کی پیشکش، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کلکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

عدم اطمینان کا اظہار، دو ہفتوں میں جواب طلب، مزید سماعت 2 نومبر کو ہوگی۔

October 19, 2026 · اہم خبریں
اسلام آباد ہائیکورٹ کا داخلی منظر جہاں کیس کی سماعت ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا داخلی منظر جہاں کیس کی سماعت ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری کے ضبط شدہ سونے کی اینٹیں واپس کرنے کے بجائے 48 لاکھ روپے کی ادائیگی کی پیشکش پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ کلکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے حکام کو 2 ہفتوں کے اندر اپنا تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اس توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق، عدالت کی جانب سے پہلے ہی درخواست گزار کو سونے کی اینٹیں اصل حالت میں واپس کرنے کا حکم دیا گیا تھا، نہ کہ ان کے بدلے نقد رقم ادا کرنے کا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ سونے کی قیمت میں ہونے والے اضافے کا مالی فائدہ ریاست کو کیوں دیا جائے، جبکہ اس کی وجہ سے نقصان کا بوجھ اکیلا شہری اٹھائے۔ سماعت کے دوران حکام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ضبط شدہ سونے کی اینٹیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے کی جا چکی ہیں، تاہم عدالت نے کسٹمز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے اس عذر کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون میں ایسا کوئی نکتہ موجود نہیں جو ضبط شدہ سونے کو ناقابلِ واپسی قرار دے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادائیگی کے لیے سونے کی موجودہ قیمت کے بجائے پرانی قیمت مقرر کی گئی ہے، اور جب تک اسمگلنگ کا جرم ثابت نہ ہو جائے، کسی کا سونا اس طرح ضبط نہیں کیا جا سکتا۔ ہائیکورٹ نے حکام کے اس مبہم موقف کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کیس کی مزید سماعت 2 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔